دہلی میں کشمیر کا منظر؛ بھارتی پولیس کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ پر وحشیانہ تشدد

شہریت کے متنازع قانون کیخلاف مظاہرے، بھارتی دارالحکومت میدان جنگ بن گیا

شہریت کے متنازع قانون کے خلاف بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے کئی علاقے میدانِ جنگ بن گئے۔

 نئی دہلی میں ہونے والے مظاہرین مشتعل افراد کی جانب سے بسوں میں تھوڑ پھوڑ  اور  پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جب کہ پولیس چوکی اور موٹر سائيکلوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی دہلی میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 12 پولیس اہلکار سمیت 21 افراد زخمی ہوئے۔

دوسری جانب  کلکتہ اور تامل ناڈو میں بھی ہزاروں افراد متنازع قانون کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے جس کے نتیجے میں مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔

 بھارتی ریاست آسام کے چند علاقوں سے کرفیو اٹھا لیا گیا تاہم موبائل انٹر نیٹ سروس بدستور بند ہے۔

علاوہ ازیں شہریت کے متنازع قانون پر سوشل میڈیا پر پوسٹ کے الزام میں 113 افراد کو بھارتی پولیس نے گرفتار کر لیا۔

مقتول صحافی جمال خاشقجی کی منگیتر کو کس بات کا افسوس ہے؟

یہ بھی پڑھیں

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

استنبول: ترک صدر رجب طلب اردوان سے سخت ردعمل دیا تھا ہفتے کو کہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے