بے بس اور بے وسیلہ پناہ گزین کے مسائل کا امیر ملک ادراک نہیں کرسکتے

بے بس اور بے وسیلہ پناہ گزین کے مسائل کا امیر ملک ادراک نہیں کرسکتے

سوئٹزرلینڈ: جینیوا میں پناہ گزینوں کے پہلے عالمی فورم کا آغاز ہوا جس کی مشترکہ صدارت وزیراعظم عمران خان کررہے ہیں

وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پہلے ریفیوجی گلوبل فورم کے انعقاد پر بہت خوشی ہے اور میں دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین کی میزبانی کرنے پر ترک صدر رجب طیب اردوان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ بے بس اور بے وسیلہ ماجرین کے مسائل کا امیر ملک ادراک نہیں کرسکتے، دنیا سے ایسے حالات کا خاتمہ کرنا ہوگا جس سے لوگ پناہ گزین بنتے ہیں اوت ایسے حالات پیدا کرنے ہوں گے کہ مہاجرین با عزت طریقے سے اپنے وطن لوٹ سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ابتدائی دنوں میں تاریخ کی سب سے بڑی پناہ گزین تحریک کا سامنا کرچکا ہے اور اس وقت پاکستان کو خود بے روزگاری کے مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغان امن عمل میں ہر ممکن تعاون کررہا ہے، مشکلات کے باوجود افغان مہاجرین کی میزبانی پر پاکستانی قوم قابل تعریف ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے اس موقع پر مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ وادی کے 80 لاکھ عوام گھروں میں محصور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جان بوجھ کر مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلا جارہا ہے اور ساتھ ہی عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
عالمی برادری سے بھارت کو بحران پھیلانے سے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 9 لاکھ فوجی مقبوضہ کشمیر میں تعینات کر رکھے ہیں۔
دو روزہ گلوبل ریفیوجی فورم سے مختلف ممالک کے رہنما خطاب کریں گے، جس کا انعقاد یو این ایچ سی آر کے اشتراک سے کیا جارہا ہے، فورم کا مقصد عالمی سطح پرپناہ گزینوں سے یکجہتی اور ان کی سیاسی حمایت کرنا ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم عمران خان سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا پہنچے تھے جہاں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل سفیر خلیل ہاشمی، سوئس حکومت کے نمائندوں اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین نے وزیراعظم عمران خان کا استقبال کیا تھا۔
اس موقع پر سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی سفیر احمد ندیم وڑائچ اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) جینیوا میں پاکستانی مشن کے مستقل نمائندے ڈاکٹر محمد مجتبی پراچہ بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں

اسرائیل اور بحرین کے درمیان باقاعدہ طور پر سفارتی تعلقات قائم کر لیے گئے

اسرائیل اور بحرین کے درمیان باقاعدہ طور پر سفارتی تعلقات قائم کر لیے گئے

بحرین : گذشتہ کئی دہائیوں سے بیشتر عرب ممالک نے اسرائیل کا بائیکاٹ کر رکھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے