پولیس کی نااہلی نے بابا نور محمد کو بابا لاڈلا بنا دیا

کراچی: پولیس کی نااہلی نے بابا نور محمد کو بابا لاڈلا بنا دیا، بابا نور کے 4 سال بابا لاڈلا کے نام پر جیل کی نذر ہوگئے، شہری اپنی شکایت لے کر سندھ ہائی کورٹ پہنچ گیا

شہری نے پولیس اور کے الیکٹرک کے خلاف 50 لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ 1998 میں مجھے حراست میں لیا گیا اور میرے خلاف 6 مقدمات بنائے گئے اور ان سب میں مجھے عدالت نے بری کردیا۔
نور محمد کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک والے نوکری پر بحال نہیں کررہے، پولیس نے مجھے بابا لاڈلا سمجھ کر گرفتار کیا، مجھے اب معاوضہ ملنا چاہیے، میرے 4 سال ضائع ہوگئے میرے 9 بچے ہیں۔
نور محمد کے وکیل شعاع النبی کا کہنا ہے کہ یہ پولیس سمیت دیگر اداروں کی نااہلی ہے کہ بابا لاڈلا کے نام پر کسی اور شہری کو گرفتار کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

سینئر سرکاری عہدیداروں نے 1976 کے ڈرگ ایکٹ کی خلاف ورزی

سینئر سرکاری عہدیداروں نے 1976 کے ڈرگ ایکٹ کی خلاف ورزی

کراچی: سینئر عہدیداروں نے عام لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ڈریپ کے کام کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے