سابق صدر کے پاس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اختیار ہے

سابق صدر کے پاس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اختیار ہے

اسلام آباد: سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج محمود عالم رضوی اور متعدد وکلا کے مطابق پرویز مشرف سنگین غداری کیس میں سنائے گئے سزائے موت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر سکتے ہیں

اگرچہ پرویز مشرف کے پاس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اختیار ہے لیکن انہیں اپیل دائر کرنے کے لیے واپس ملک آنا پڑے گا۔
ماضی میں اس کیس میں دائر کی جانے والی درخواستوں میں کہا گیا کہ سنگین غداری کا کیس صرف ایک شخص کے خلاف نہیں بلکہ 2007 کی پوری حکومتی کابینہ پر چلنا چاہیے۔
ر پرویز مشرف خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کرتے تو یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ خصوصی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کروائے۔
متعدد وکلا کا ماننا ہے کہ قانون کے مطابق سزا حاصل کرنے والا شخص 30 دن کے اندر فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔
عبدالقیوم صدیقی کے مطابق وکلا و قانونی ماہرین کے مطابق اپیل دائر کرنے کے لیے ملزم کو عدالتی حدود میں جسمانی طور پر رہنا ہوگا اور خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں 30 دن کے اندر درخواست دائر کی جاسکتی ہے۔
خصوصی عدالت کا فیصلہ تاریخی ہے، آج تک ایسا فیصلہ نہیں آیا، آئین کے مطابق جو بھی آئین توڑے گا اس کے خلاف سنگین غداری کیس چلے گا۔

یہ بھی پڑھیں

پارلیمنٹ حملہ کیس سےمتعلق درخواست کا فیصلہ 29 اکتوبر کو سنانے کا امکان

پارلیمنٹ حملہ کیس سےمتعلق درخواست کا فیصلہ 29 اکتوبر کو سنانے کا امکان

اسلام آباد: اے ٹی سی جج رانا جواد عباس حسن نے درخواست کی سماعت کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے