حکومت معاشی پیداوار کو 2.4 فیصد تک بڑھانے کا ہدف بنا رہی ہے

حکومت معاشی پیداوار کو 2.4 فیصد تک بڑھانے کا ہدف بنا رہی ہے

کراچی: حکومت معاشی پیداوار کو 2.4 فیصد تک بڑھانے کا ہدف بنا رہی ہے جو کئی برسوں میں سب سے کم ہے جبکہ کثیرالجہتی قرض دہندگان جی ڈی پی کی توقع 2.8 فیصد تک کررہے ہیں

یہ امید بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے 6 ارب ڈالر کے قرض کے معاہدے کے تحت کی جانے والی مالی اور مانیٹری اصلاحات کے بعد حالیہ مہینوں میں حاصل ہونے والے معاشی استحکام کے مطالعے پر ہے۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر نے امریکین بزنس فورم (اے بی ایف) کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ ‘ (استحکام کے پروگرام) کا مشکل حصہ ختم ہوگیا اور ہم بحران سے نکل گئے ہیں، اب ہمارے پاس (طویل مدتی ترقی کی حمایت کے لیے) ادارہ جاتی اصلاحات کی جگہ ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے معیشت کو ٹھیک کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اور ہمارے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہورہا ہے اور اب ہمیں مزید (ادائیگیوں کے توازن) سے متعلق بحران کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں’۔
رضا باقر کے مطابق حکومت پہلے ہی سخت اور غیرمقبول فیصلوں پر عملدرآمد کرچکی ہے، حکومت کی حکمت عملی بری خبر کو سامنے رکھ کر آگے بڑھنا تھا۔
ساتھ ہی انہوں نے ڈیڑھ سال سے زائد کے عرصے میں ایکسچینج ریٹ اور مہنگائی کی ایڈجسمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹکڑوں میں بری خبر دینا لوگوں کے درمیان مایوسی پھیلاتا ہے۔
بیرونی کھاتوں میں استحکام اور غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے نے اسٹیٹ بینک کے لیے اداراجاتی اصلاحات، برآمدات میں اضافے اور مالی شمولیت خاص طور پر فن ٹیک کے ذریعے اس میں اضافے پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع فراہم کیا۔

یہ بھی پڑھیں

انڈس اسپتال میں کورونا وائرس کی ویکسین کا انسانی ٹرائل شروع ہوگیا

انڈس اسپتال میں کورونا وائرس کی ویکسین کا انسانی ٹرائل شروع ہوگیا

کراچی: چین کی دو کمپنیوں نے کورونا ویکسین پر کام کیا، پاکستان میں ویکسین کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے