جرمن چانسلر انجیلا مرکل رواں برس دنیا کی سب سے بااثر خاتون قرار پائی

جرمن چانسلر انجیلا مرکل رواں برس دنیا کی سب سے بااثر خاتون قرار پائی

نیویارک: متعدد شعبوں کی فہرست مرتب کرنے والے ادارے ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ عالمی مسابقتی انڈیکس نے دنیا بھر کی 10 طاقتور اوربااثر خواتین کی فہرست جاری کی ہے تاہم اس فہرست میں کوئی بھی ایشیائی خاتون شامل نہیں ہوسکی

دی ورلڈ انڈیکس کے مطابق جرمن چانسلر انجیلا مرکل رواں برس دنیا کی سب سے بااثر خاتون قرار پائی ہیں۔
کرسٹین میڈیلین آڈیٹ لیگارڈ فرانسیسی سیاست دان اور وکیل ہیں، جو نومبر 2019 سے یورپین سینٹرل بینک کی صدر کی حیثیت خدمات انجام دے رہی ہیں وہ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر براجمان ہیں۔
جنوری 2019 میں امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر منتخب ہونے والی نینسی پلوسی دنیا کی تیسری بااثر ترین خاتون قرار پائی ہیں جو امریکی سیاست دان اور ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن ہیں۔
یورسیولا وون ڈیر لین جرمن سیاستدان ہیں اور یکم دسمبر 2019 سے یورپین کمیشن کی صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھارہی ہیں، وہ اس فہرست میں چوتھے نمبر پر براجمان ہیں جبکہ میری ٹیریسا بارا جنرل موٹرز کمپنی کی چیئرپرسن اور سی ای او ہیں جو دنیا کی پانچویں بااثر ترین خاتون ہیں۔
بل گیٹس کی اہلیہ میلنڈا این گیٹس سماجی کارکن اور مائیکروسافٹ کی سابق جنرل مینجر رہ چکی ہیں۔ انہیں فہرست میں دنیا کی 6 بااثر ترین خاتون کا درجہ دیا گیا ہے جبکہ امریکی بزنس وومن ایبی گیل جانسن کو دنیا کی ساتویں بااثر خاتون ہیں۔
اینا پیٹریشیا بوٹن پیشے کے اعتبار سے بینکر ہیں، وہ 10 ستمبر 2014 کو اسٹینڈرڈ گروپ کی ایگزیکٹیو چیئرمین منتخب ہوئی تھیں، اینا دنیا کی آٹھویں بااثر خاتون ہیں۔
گینی رومیٹی امریکن بزنس ایگزیکٹیو ہیں اور اس وقت آئی بی ایم کی صدر، چیئرپرسن اور سی ای او کے فرائض انجام دے رہی ہیں، وہ اس کمپنی کی پہلی خاتون سربراہ اور دنیا کی نویں بااثر خاتون ہیں۔
ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ عالمی مسابقتی انڈیکس کی فہرست میں امریکا سے تعلق رکھنے والی میری لین ایڈمز ہیوسن، لاک ہیڈ مارٹن کی چیئروومن، سربراہ اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر دسویں نمبر پر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کویت کی قومی اسمبلی نے ملک میں تارکین وطن کی تعداد کم کرنے کا بل متفقہ طور پر منظور

کویت کی قومی اسمبلی نے ملک میں تارکین وطن کی تعداد کم کرنے کا بل متفقہ طور پر منظور

کویت: کویت قومی اسمبلی میں منظور ہونے والے بل کے تحت ملک میں تارکین وطن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے