گل جی کا شمار دنیائے آرٹ کے ان چند ماسٹرز میں ہوتا ہے

گل جی کا شمار دنیائے آرٹ کے ان چند ماسٹرز میں ہوتا ہے

کراچی: گل جی نے اسلامی خطاطی میں کئی نئی جہتیں متعارف کروائی تھیں، وہ 1926ء کو پشاور میں پیدا ہوئے اور مصوری کا آغاز امریکا میں بحیثیت انجینئر اپنی تعلیم کے حصول کے دوران کیا

گل جی کا شمار دنیائے آرٹ کے ان چند ماسٹرز میں ہوتا ہے جنھوں نے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کیا، گل جی کو اسلامی خطاطی میں کمال حاصل تھا۔انھوں نے اسلامی خطاطی کا نیا انداز متعارف کروایا جبکہ ایکشن پینٹنگ میں بھی ان کا فن مصوری شاہکار مانا گیا، گل جی کو پورٹریٹ پینٹنگ پر بھی عبور حاصل تھا۔
فن مصوری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ گل جی نے اس دور میں اپنی مصوری کی دھاک بٹھائی جب صادقین، احمد پرویز، شاکر علی اور بشیر مرزا کا طوطی بولتا تھا۔ گل جی کا اپنی تصاویر میں مختلف غیر روایتی چیزوں کا استعمال انہیں خاصا مختلف بناتا ہے۔ وہ اپنی آئل پینٹنگز میں شیشہ اور سونے اور چاندی کے ورق استعمال کرنے کی وجہ سے بھی انفرادیت کے حامل ہیں۔
گل جی کا رجحان پینٹنگ کے ساتھ ساتھ مجسمہ سازی کی جانب بھی مائل ہوا۔ گل جی اپنی کیلی گرافی اور پورٹریٹس کی وجہ سے بھی بے حد مقبول تھے۔ مصوری کے دلدادہ افراد کے مطابق گل جی کی مصوری کے منفرد رنگ گویا گفتگو کرتے تھے۔ ان میں حساسیت اور جذبات کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔
انھوں نے شاہ خالد، پرنس کریم آغا خان، افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ سمیت کئی مشہور شخصیات اور سربراہ مملکت کی تصاویر بنائیں، گل جی کو تمغہ برائے حسن کارکردگی، تمغہ امتیاز سمیت ملکی جبکہ کئی غیر ملکی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔
16 دسمبر 2007ء کو گل جی اپنی اہلیہ سمیت پراسرار طور پر مردہ حالت میں پائے گئے بعد ازاں ان کے قتل میں ملوث گھر کے ملازمین کو گرفتار کرلیا گیا تھا جنھیں عدالت نے مئی 2017ء میں عمر قید کی سزا سنائی۔

یہ بھی پڑھیں

انڈس اسپتال میں کورونا وائرس کی ویکسین کا انسانی ٹرائل شروع ہوگیا

انڈس اسپتال میں کورونا وائرس کی ویکسین کا انسانی ٹرائل شروع ہوگیا

کراچی: چین کی دو کمپنیوں نے کورونا ویکسین پر کام کیا، پاکستان میں ویکسین کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے