امریکہ کے ممنوعہ میزائلی تجربے پر روس کا رد عمل

امریکہ کے ممنوعہ میزائلی تجربے پر روس کا رد عمل

امریکہ کے ممنوعہ میزائلی تجربے پر روس نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق پینٹاگون سے جاری بیان میں کامیاب تجربے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ میزائل نے 500 میل سے زائد فاصلہ طے کر ہدف کو بحرالکاہل میں کھلے سمندر میں نشانہ بنایا تاہم بیلسٹک میزائل کی قسم اور ساخت سے متعلق زیادہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ میزائل غیر جوہری وار ہیڈ سے لیس ہو کر وار کرنے صلاحیت سے مالا مال ہے۔

ادھر روس کے صدرولادیمیر پوتین نے اسلحہ سازی کے ڈپارٹمنٹ کے افسران کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے امریکا کی جانب سے میزائل ٹیسٹ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ ہمیں خبردار کیا گیا ہےاوریہ ایک طرح کا جنگ کا اعلان ہے جس کے لیے ہم تیار ہیں۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تجربے سے خطے میں اسلحے کی تیاری کی غیر ضروری جنگ چھڑ جائے گی۔

واضح رہے کہ امریکا اور روس کے درمیان 1987ء میں ہتھیاروں کی تیاری کی دوڑ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت 500 کلومیٹر سے 5 ہزار 500 کلومیٹر کی رینج تک کے کروز میزائل کی تیاری پر پابندی عائد ہوگئی تھی تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے رواں برس اکتوبر میں انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر معاہدے سے دست برداری کا اعلان کیا تھاجس کے بعد یہ تجربہ کیا گیا۔

زمین کے کسی بھی براعظم کی سطح پر سب سے گہرا مقام دریافت کر لیا گیا

یہ بھی پڑھیں

مختلف شہروں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

مختلف شہروں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

ریاض: سعودی محکمہ موسمیات نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ریاض، مدینہ منورہ، بریدہ، نجران، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے