حافظ سعید اور ان کےساتھیوں پر فرد جرم عائد کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں

حافظ سعید اور ان کےساتھیوں پر فرد جرم عائد کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں

 واشنگٹن: دسمبر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حافظ سعید اور ان کے 3 ساتھیوں حافط عبدالسلام بن محمد، محمد اشرف اور ظفر اقبال پر دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کی فرد جرم عائد کی گئی تھی

امریکی سیکریٹری اسٹیٹ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا ایلس جی ویلز نے کہا کہ ’ہم حافظ سعید اور ان کےساتھیوں پر فرد جرم عائد کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
ہم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں دہشت گردی کی مالی معاونت کے تدارک کے لیے بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق مکمل قانونی چارہ جوئی اور مقدمے کی فوری سماعت کو یقینی بنائیں اور اور 11/26 جیسے دہشت گرد حملوں کے قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں‘۔
فرد جرم عائد کیے جانے کا یہ اقدام عسکری گروہوں کو ملک میں فنڈز جمع کرنے سے روکنے اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے خلاف فوری ایکشن لینے کے لیے پاکستان پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا نتیجہ ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد کردہ عالمی دہشت گردوں فہرست میں شامل ہیں اور امریکا کے محکمہ خزانہ نے بھی انہیں خصوصی نامزد عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا جبکہ 2012 سے ان کی گرفتاری پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام بھی رکھا ہوا ہے۔
3 جولائی کو کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید اور نائب امیر عبدالرحمٰن مکی سمیت اعلیٰ قیادت کے 13 رہنماؤں پر انسانی دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے تقریباً 2 درجن سے زائد کیسز درج کیے گئے تھے۔
محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)کا کہنا تھا کہ جماعت الدعوۃ اپنے فلاحی ادارے الانفال ٹرسٹ، دعوۃ ارشاد ٹرسٹ، معاذ بن جبل ٹرسٹ وغیرہ کے ذریعے جمع ہونے والا فنڈ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
5 مارچ کو دونوں تنظیموں پر انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت پابندی عائد کرنے کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اور ان کے ناموں کو ایکٹ کے شیڈول ‘ون’ میں شامل کر دیا گیا تھا۔
ان تمام فلاحی اداروں کی تحقیقات کے بعد جماعت الدعوۃ سے تعلق کا پتہ لگنے پر اپریل کے مہینے میں ان پر اور ان کی اعلیٰ قیادت پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
17 جولائی کو سی ٹی ڈی حکام نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کردیا تھا۔
3 ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کے خلاف دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کا کیس گوجرانوالہ سے لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

دسمبر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حافظ سعید اور ان کے 3 ساتھیوں حافط عبدالسلام بن محمد، محمد اشرف اور ظفر اقبال پر دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کی فرد جرم عائد کی گئی تھی

کیس گوجرانوالہ سے لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

استنبول: ترک صدر رجب طلب اردوان سے سخت ردعمل دیا تھا ہفتے کو کہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے