حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک موجود

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک موجود

اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے مذکورہ معاملے میں کردار ادا کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی کوششیں بھی ناکام ہوگئیں

وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کی سربراہی میں چیف الیکشن کمشنر اور ای سی پی کے اراکین کی تقرری کے معاملے پر تشکیل دی گئی پارلیمانی کمیٹی طے شدہ شیڈول کے مطابق نہیں مل سکی اور اجلاس اب 16 دسمبر کو ہوگا۔
آئین کی دفعہ 213 کی شق نمبر 2 حصہ الف کے تحت وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے پارلیمانی کمیٹی کو چیف الیکشن کمشنر کے تقرر یا سماعت کے لیے نام بھجواتا ہے۔
4 دسمبر کو چیف الیکشن کمشنر و ممبران کے تقرر کے لیے قائم پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بغیر کسی نتیجے کے اختتام پذیر ہوا جس کے بعد اسے ایک ہفتے کے لیے مؤخر کردیا گیا تھا۔
حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ طلب کیا جائے گا اور الیکشن کمیشن کو غیر فعال ہونے سے بچانے کے لیے عدالت سے ایک سے دو ہفتوں کی توسیع مانگی جائے گی۔
الیکشن کیمشن آف پاکستان میں سندھ اور بلوچستان کے اراکین جنوری میں ریٹائر ہوئے تھے اور آئین کے مطابق ان عہدوں پر 45 دن میں اراکین کا تقرر ہوجانا چاہیے تھا تاہم اپوزیشن اور حکومت کے اختلافات کے باعث نہ ہوسکا۔
الیکشن کیمشن آف پاکستان میں سندھ اور بلوچستان کے اراکین جنوری میں ریٹائر ہوئے تھے اور آئین کے مطابق ان عہدوں پر 45 دن میں اراکین کا تقرر ہوجانا چاہیے تھا تاہم اپوزیشن اور حکومت کے اختلافات کے باعث نہ ہوسکا۔

یہ بھی پڑھیں

نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس اسکینڈل میں 22 کروڑ 40 لاکھ روپے برآمد کرکے حکومت سندھ کے حوالے

نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس اسکینڈل میں 22 کروڑ 40 لاکھ روپے برآمد کرکے حکومت سندھ کے حوالے

اسلام آباد: جاوید اقبال نے سندھ کے چیف سکریٹری ممتاز علی شاہ کو 22 کروڑ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے