آمرانہ حکومتیں تنقیدی میڈیا کو کھلی چھوٹ دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں

آمرانہ حکومتیں تنقیدی میڈیا کو کھلی چھوٹ دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں

کراچی: کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ (سی پی جے) کے سالانہ سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ کم از کم 250 صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے باعث جیل میں ہیں جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 255 تھی

سی پی جے نے جب سے صحافیوں کی حراست کا ریکارڈ رکھنا شروع کیا ہے اس وقت سے سب سے زیادہ صحافیوں کو سال 2016 میں حراست میں لیا گیا تھا جن کی تعداد 273 تھی ار چین، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے بعد سب سے برے جیلر ایریٹیریا، ویت نام اور ایران ہیں۔
چین نے پریس پر سختیوں میں اضافہ کردیا اور ترکی نے آزادانہ رپورٹنگ کو ختم کردیا ہے لہٰذا اپنے فرائض انجام دینے کی وجہ سے دنیا بھر میں صحافیوں کو حراست میں لینے کی تعداد ریکارڈ کے قریب قریب ہے جبکہ رہا کیے جانے والے صحافی مقدمے یا اپیل کے منتظر ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں آمریت، عدم استحکام اور احتجاج کی وجہ سے زیادہ تر صحافی گرفتار ہوئے بالخصوص سعودی عرب میں جو دنیا کے تیسرے بدترین جیلر مصر کے برابر آگیا ہے۔
سی پی جے کے مطابق ویت نام اب بھی چین کے بعد ایشیا کا دوسرا بدترین جیلر ہے جہاں 12 صحافی زیر حراست ہیں جبکہ پورے امریکا میں صرف 3 صحافیوں کو جیل بھیجا گیا تھا۔
دنیا بھر میں قید صحافیوں کی اکثریت کو ریاست مخالف الزامات کا سامنا ہے جبکہ جھوٹی خبر کے الزام میں قید صحافیوں کی تعداد 30 ہے جو گزشتہ برس 28 تھی۔
صحافیوں کے خلاف الزامات کے استعمال میں سال 2012 کے بعد سے تیزی آئی جب سی پی جے کے مطابق پوری دنیا میں صرف ایک صحافی کو الزام کا سامنا تھا اس میں بھی مصرری صدر عبدالفتح سیسی سب سے زیادہ اس کا استعمال کرتی ہے۔
گزشتہ برس روس اور سنگاپور سمیت جابرانہ ممالک میں ’جعلی خبروں‘ کو جرم بنانے کے لیے قانون سازی کی گئی تھی۔
ا عداد و شمار کے مطابق 4 سالوں میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ ترکی دنیا کا بدترین جیلر نہیں بنا تاہم قیدیوں میں تعداد میں کمی نے ترک میڈیا کے لیے صورتحال بہتر ہونے کی نشاندہی نہیں کی۔
گزشتہ برس کے 68 قیدیوں کے مقابلے تعداد کم ہو کر 47 ہوجانا اس بات کا عکاس ہے کہ صدر رجب طیب اردوان نے آزادانہ رپورٹنگ کو ختم کرنے کی کامیاب کوششیں کی ہیں جس میں 100 سے زائد نیوز آؤٹلیٹس کی بندش اور اس کے عملے کے خلاف دہشت گردی کے الزامات عادئد کرنا ہے۔
سی جے پی کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جیلوں میں موجود 98 فیصد صحافی مقامی ہیں جو اپنے ملک کی صورتحال پر رپورٹنگ کررہے تھے4 میں 3 صحافی غیر ملکی ہیں جو سعودی عرب میں قید ہیں جبکہ ایک چین میں زیر حراست ہے۔
رپورٹ کے مطابق جیل میں موجود صحافیوں کی تعداد کا 8 فیصد یا 20 صحافی خواتین ہں جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 13 فیصد تھی۔
سیاست صحافیوں کو جیل میں پہنچانے کی سب سے بڑی وجہ ہے جس کے بعد انسانی حقوق اور بدعنوانی کے الزامات ہیں زیر حراست صحافیوں کی نصف سے زائد تعداد آن لائن اشاعت کے لیے رپورٹنگ کررہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

انڈس اسپتال میں کورونا وائرس کی ویکسین کا انسانی ٹرائل شروع ہوگیا

انڈس اسپتال میں کورونا وائرس کی ویکسین کا انسانی ٹرائل شروع ہوگیا

کراچی: چین کی دو کمپنیوں نے کورونا ویکسین پر کام کیا، پاکستان میں ویکسین کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے