سخت مقابلے کے بعد کنزرویٹو پارٹی کی کامیابی کی پیش گوئی

سخت مقابلے کے بعد کنزرویٹو پارٹی کی کامیابی کی پیش گوئی

لندن: ڈیٹا کمپنی یو گو نے انتخابات سے ایک روز قبل جاری کیے گئے پول میں کنزرویٹو پارٹی کی کامیابی کی پیش گوئی کی ہے لیکن ساتھ ہی معلق پارلیمنٹ تشکیل دیے جانے کا بھی امکان ظاہر کیا ہے

انتخابات میں 18 برس یا اس سے زائد عمر والے رجسٹرڈ برطانوی شہری ووٹ ڈال سکتے ہیں جس میں 650 مرد و خواتین کا انتخاب کیا جائے گا جبکہ پارلیمنٹ میں اکثریت پانے کے لیے کسی بھی پارٹی کا 326 نشستیں جیتنا ضروری ہے۔
انتخابات برطانیہ کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کنزرویٹو اور لیبر پارٹی کی ایما پر ہورہے ہیں جو نہایت اہم قرار دیے جارہے ہیں کیوں کہ دونوں جماعتوں کا بریگزٹ کے حوالے سے موقف یکسر مختلف ہے، اسی انتخاب کے نتیجے میں اس بات کا فیصلہ ہوجائے گا کہ برطانیہ کس طرح یورپی یونین سے خارج ہوگا۔
آج ہونے والے انتخابات میں سال 2017 کے انتخابات کے مقابلے میں بڑی تعداد میں ایسے امیدوار حصہ لے رہے ہیں جن کا پس منظر پاکستانی ہے۔
گزشتہ انتخابات میں ایسے امیدواروں کی تعداد 40 تھی جبکہ حالیہ انتخابات میں 70 پاکستانی نژاد امیدوار حصہ لے رہے ہیں جنہیں کنزرویٹو، لیبر اور لبرل ڈیموکریٹ پارٹیز نے ٹکٹ دیا ہے جبکہ کچھ امیدوار آزاد حیثیت سے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔
امیدواروں کی تقسیم کچھ اسطرح ہے کہ 20 پاکستانی نژاد امیدواروں نے کنزرویٹو پارٹی، 19 لیبر پارٹی، 12 لبرل ڈیموکریٹ، 5 بریگزٹ پارٹی، 4 گرین پارٹی اور 10 امیدوار آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا۔
قومیتی مساوات کے ایک تھنک ٹینک رنی میڈ کے مطابق عام طور پر پاکستانی نژاد ووٹرز دیگر اقلیتوں کے طرح لیبر پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں اور 90 کی دہائی میں یہ شرح 80- 90 فیصد تھی۔

یہ بھی پڑھیں

دنیا بھر میں کرونا وائرس انفکیشن سے اموات کی تعداد 11 لاکھ 23 ہزار سے تجاوز کر گئی

دنیا بھر میں کرونا وائرس انفکیشن سے اموات کی تعداد 11 لاکھ 23 ہزار سے تجاوز کر گئی

شنگھائی: نجی سافٹ ویئر سلوشن کمپنی کی ریفرنس ویب سائٹ ورلڈومیٹر کے اعداد و شمار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے