انٹرنیٹ سمارٹ ٹی وی کو بھی ویڈیو ایپس کی سٹریمنگ اور دیگر خدمات تک رسائی فراہم کرتا ہے

انٹرنیٹ سمارٹ ٹی وی کو بھی ویڈیو ایپس کی سٹریمنگ اور دیگر خدمات تک رسائی فراہم کرتا ہے

سمارٹ ٹی وی کی سکرین انٹرنیٹ سے منسلک ہوتی ہے اور ایک سمارٹ فون کی طرح انٹرنیٹ سمارٹ ٹی وی کو بھی ویڈیو ایپس کی سٹریمنگ اور دیگر خدمات تک رسائی فراہم کرتا ہے یہاں تک کہ آپ مختلف ای کامرس پورٹلز کے ذریعے خریداری بھی کر سکتے ہیں

سمارٹ ٹی وی کے ماڈلز میں ‘وائس ریکگنیشن’ یا آواز پہچاننے کی صلاحیت ہوتی ہے اور اس میں کیمرے لگے ہوتے ہیں جنھیں صارفین ویڈیو کال کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
تاہم ان تمام فوائد کے ساتھ اس میں کچھ خطرات بھی ہیں اور ماہرین کے مطابق ان کو ذہن میں لازماً رکھنا چاہیے۔

خطرات

نورٹن نامی سائبر سکیورٹی کمپنی، جو کہ اینٹی وائرس بھی تیار کرتی ہے، کے مطابق انٹرنیٹ سے منسلک سمارٹ ٹی وی میں ‘یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ آپ جو دیکھ رہے ہیں یا جس کی تلاش کر رہے ہیں’ وہ اسے ٹریک کر سکتا ہے۔ ان معلومات کی مدد سے سمارٹ ٹی وی آپ کے طرزِ زندگی اور پسند کی مناسبت سے آپ کے لیے اشتہارات پروگرام کر سکتا ہے۔
نورٹن کے مطابق ‘سمارٹ ٹی وی کیمروں کو ہیک کیا جا سکتا ہے جن کی مدد سے جاسوسی کی جا سکتی ہے اور مضر سافٹ ویئر ایک ڈیوائس (آلہ) سے دوسرے ڈیوائس منتقل ہو سکتا ہے۔ ٹی وی کیمرے کی مدد سے ہیکر یہ جان سکتے ہیں کہ آپ نے گھر میں قیمتی اشیا تو نہیں رکھی ہوئیں یا آپ طویل عرصے کی چھٹی پر گھر سے باہر کب جاتے ہیں۔’
26 نومبر کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ‘ہیکرز آپ کے غیرمحفوظ ٹی وی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔ وہ آپ کے چینلز بدل سکتے ہیں، آواز کم یا تیز کر سکتے ہیں یا آپ کے بچوں کو نامناسب ویڈیوز دکھا سکتے ہیں۔ بدترین صورتحال یہ ہو سکتی ہے کہ وہ آپ کے کمرے میں موجود ٹی وی کا کیمرہ اور مائیکرو فون کنٹرول میں لے کر خاموشی سے آپ کی جاسوسی کر سکتے ہیں۔’
کا کہنا ہے کہ جب بھی آپ نیا سمارٹ ٹی وی خریدیں یا اس کا استعمال شروع کریں تو آپ کو اس کے تمام فیچرز کا لازمی پتا ہونا چاہیے۔
مثلاً اگر آپ کے سمارٹ ٹی وی میں کیمرا یا مائیکرو فون ہے، انھیں کیسے کنٹرول کرنا ہے یہ آپ کو لازماً پتا ہونا چاہیے۔
ایک اور تجویز یہ ہے کہ آپ کو پاس ورڈز کو تبدیل کرتے رہنا چاہیے اور یہ پتا ہونا چاہیے کہ وائس ریکگنیشن سسٹم، کیمرے اور دوسرے سسٹمز کو کیسے غیر فعال کیا جاتا ہے۔
اگر آپ یہ سب نہیں کر سکتے تو آپ کو یہ سوچنا چاہیے کہ کسی مخصوص ماڈل کا سمارٹ ٹی وی خریدنے کا رسک آپ اٹھا سکتے ہیں۔ پھر بھی اگر آپ کیمرے والا ماڈل خریدنا چاہتے ہیں مگر آپ کو یہ معلوم نہیں کہ اسے غیر فعال کیسے کیا جاتا ہے تو بہتر ہو گا کہ آپ کیمرے کے عدسے پر کالی ٹیپ چسپاں کر دیں۔
ٹی وی بنانے والی کمپنیاں وقت کے ساتھ ساتھ سسٹم کی بہتری اور سکیورٹی کے حوالے سے تجاویز جاری کرتی رہتی ہیں اور ان پر نظر رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ایرانی صدر کی یورپی ممالک کو دھمکی

ایرانی صدر کی یورپی ممالک کو دھمکی

تہران: ایرانی صدر حسن روحانی نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود غیر ملکی افواج کو خطرے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے