ایک دوسرے پرالزامات سے دشمنوں کو تقویت ملیگی

آرمی چیف نے افغان صدر اشرف غنی کو ٹیلی فون کیا ہے، دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا، اس موقع پر آرمی چیف قمرجاوید باجوہ نے افغان صدر پرواضح کر دیا کہ افغانستان اور پاکستان دونوں گزشتہ کئی سال سے دہشت گردی کا شکار ہیں،ایسے میں ایک دوسرے پرالزامات لگانے سے دشمنوں کو تقویت ملے گی۔ جبکہ خطے کا امن تباہ کرنے والے بھی مضبوط ہوں گے۔

جنرل قمر جاوید باوجوہ نے اشرف غنی کو بتایا کہ مؤثرانٹیلی جنس تعاون سےدہشت گردوں کی نقل وحرکت روکی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کیلئے افغانستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔

آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف طویل جنگ لڑی ہے، پاکستان میں بلاامتیاز کارروائی کرکے دہشت گردوں کے ہر قسم کے ٹھکانے تباہ کردیئے گئے ہیں۔ پاکستان میں اب دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں۔

پاک فوج کے ادار ہ برائے تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے دہشت گرد حملوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔

آرمی چیف نے افغان صدر کو آپریشن ضرب عضب کی کامیابیاں مستحکم کرنے کی دعوت دی۔ افغان صدر نے آرمی چیف کے مؤقف سے اتفاق کیا اور کہا کہ مشترکہ کوششوں سے ہی خطے میں استحکام ممکن ہے۔ خطے میں امن واستحکام کیلئے مل کرکوششیں کرنا ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں

افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا محرک نہ بننے دینے کی ضمانت

افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا محرک نہ بننے دینے کی ضمانت

پشاور: قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے نویں دور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے