شہر میں بڑے پیمانے نقشوں کی منظوری کے بغیرغیرقانونی عمارتوں کی تعمیر

شہر میں بڑے پیمانے نقشوں کی منظوری کے بغیرغیرقانونی عمارتوں کی تعمیر

کراچی: ویسے تو ناصر حسین شاہ پورے محکمہ بلدیات کے وزیر ہے مگر ان کی دلچسپی صرف ایس بی سی اے میں ہے اور ایسا لگتا ہے کہ باقی محکموں سے ان کا تعلق ہی نہیں ہے

ون ونڈو آپریشن میں ایک ہزار شہریوں نے نقشے جمع کرائے لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود ایک بھی نقشہ پاس نہیں ہوا جبکہ غیر قانونی تعمیرات بدستور جاری ہیں، ناصر حسین شاہ ایس بی سی اے افسران کو مبینہ طور پر خلاف ضابط احکامات دے رہے ہیں جس سے افسران ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
چند افراد کو نوازنے کے لیے ایسے احکامات دیے جارہے ہیں جس سے ہمیں جیل ہوسکتی ہے، سینئر افسران نے بلاول بھٹو سے اپیل کی ہے کہ وزیر بلد یات کو کنٹرول کیا جائے ، ناصر حسین شاہ کی بلدیاتی امور چلانے میں دلچپسپی نظر نہیں آرہی ان کے فیصلے ناکامی سے دوچار ہیں۔
ناصر حسین شاہ نے اپنی ٹیم کے ڈی اے میں تعینات کرائی لیکن 3 ماہ میں ادارے امور درہم بر ہم ہوگئے جس کے بعد ڈی جی کے ڈی اے جمیل میندھرو، ڈائریکٹر لینڈ اور ڈائریکٹر فنانس کو عہدوں سے ہٹایا اور نئی ٹیم تعینات کر دی، وزیر بلدیات کی اہم ذمے داری کچرا اٹھانے کے اموردیکھنا ہے لیکن ان کی توجہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بوڈ پر نہیں ہے۔
ناصر حسین شاہ ایس بی سی اے کے ایک ایک افسر کو سندھ سیکریٹریٹ طلب کرتے ہیں، تبادلے اور تقرریاں بھی سند سیکریٹریٹ سے کی جارہی ہیں اس وقت قانونی طور پر نقشے پاس کرانا مشکل ہے جبکہ مبینہ رشوت کے عوض غیرقانونی عمارتیں تعمیرکرنا آسان ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پہلی سہ ماہی میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 24فیصد کی کمی واقع ہوئی

پہلی سہ ماہی میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 24فیصد کی کمی واقع ہوئی

کراچی: اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ مالی سال 2021 میں جولائی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے