بی آر ٹی کی تحقیقات کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کا فیصلہ

بی آر ٹی کی تحقیقات کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کا فیصلہ

پشاور: پٹیشن میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے قانونی نکات اٹھانے کے ساتھ عدالت کے از خود اختیار کے بارے میں بھی سوال اٹھائے گئے ہیں

پٹیشن میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے قانونی نکات اٹھانے کے ساتھ عدالت کے از خود اختیار کے بارے میں بھی سوال اٹھائے گئے ہیں
2 درخواست گزاروں افضل کریم آفریدی اور عدنان آفریدی نے حیات آباد ٹاؤن شپ میں واقع اپنے گھروں کے ساتھ تعمیر شدہ منصوبے کے مخلتف حصوں کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔
ایڈووکیٹ عیسیٰ خان نے بھی عدالت سے استدعا کی تھی کہ منصوبے میں زیادہ سے زیادہ 100 میٹر کے فاصلے پر بالائی گزر گاہ یا زیر زمین گزرگاہوں کی تعمیر کا حکم دیا جائے۔
جس پر بینچ نے 35 نکات تشکیل دے کر ایف آئی اے کو ان پر تحقیقات اور اس میں پائی جانے والی خامیوں پر کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا۔
ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ قومی احتساب بیورو(نیب) نے بھی بی آر ٹی منصوبے کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے گزشتہ برس نیب کی کارروائی کو روک دیا تھا۔
اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ جب معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے تو ہائی کورٹ کس طرح ایک دوسرے ادارے کو اس کی تحقیقات کا حکم دے سکتی ہے؟
انہوں نے بتایا کہ بینچ کی جانب سے اٹھائے گئے 35 نکات تینوں میں کسی درخواست میں شامل نہیں تھے لہٰذا بینچ کو اپنا از خود نوٹس کا اختیار استعمال کرنا پڑا۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ موجود ہے کہ ہائی کورٹ کے پاس از خود نوٹس لینا کا اختیار موجود نہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کے ایک دوسرے بینچ نے دسمبر 2017 میں بی آر ٹی منصوبے کو قانون کے مطابق قرار دیا تھا لہٰذا ان نکات پر ایک اور بینچ کو ہدایات نہیں دینی چاہیئے ۔

یہ بھی پڑھیں

2019ء میں پولیس کی مددکے بغیرلاکھوں روپے کی ریکوری اورملزمان پکڑے گئے

2019ء میں پولیس کی مددکے بغیرلاکھوں روپے کی ریکوری اورملزمان پکڑے گئے

پشاور: ایف آئی اے نے گزشتہ سال 6 بڑے چھاپوں میں 9.07 ملین غیر قانونی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے