کلچر ڈے کے موقع پر گاڑی میں سوار نامعلوم افراد کی جانب سے پولیس کے سامنے کھلے عام ہوائی فائرنگ

کلچر ڈے کے موقع پر گاڑی میں سوار نامعلوم افراد کی جانب سے پولیس کے سامنے کھلے عام ہوائی فائرنگ

کراچی: ساحل انویسٹی گیشن انچارج میر محمد لاشاری نے بتایا کہ ہوائی فائرنگ سے متعلق وائرل ہونے والی فوٹیج میں جو سفید رنگ کی گاڑی نمبر KS-9183 دکھائی دے رہی تھی وہ ڈیفنس کے علاقے میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب لاوارث حالت میں کھڑی ملی ہے

انھوں نے بتایا کہ گاڑی کو گشت پر مامور پولیس موبائل میں سوار اہلکاروں نے دیکھا تھا جسے بعدازاں ساحل تھانے منتقل کر دیا گیا۔
میر محمد لاشاری نے ایک بار پھر سے ہوائی فائرنگ میں ملوث افراد کی گرفتاری سے انکار کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ گاڑی پیپلز پارٹی کے رہنما کے نام پر ہے جسے انھوں نے گزشتہ سال 4 مارچ کو ایک کار شو روم پر فروخت کر دی تھی۔
گاڑی 12 روز کے بعد 16 مارچ کو دوبارہ فروخت کر دی گئی اور اب تک متعدد افراد کو فروخت کی جا چکی ہے تاہم سی پی ایل سی کے ریکارڈ میں گاڑی اب بھی پیپلز پارٹی کے رہنما کے نام پر ہی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ لاوارث حالت میں ملنے والی گاڑی کون اور کب چھوڑ کر گیا تھا تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

وفاق اور پنجاب حکومتیں اپنی نااہلی چھپانے کیلیے سندھ پر الزام لگا رہے ہیں

وفاق اور پنجاب حکومتیں اپنی نااہلی چھپانے کیلیے سندھ پر الزام لگا رہے ہیں

کراچی: سید ناصر شاہ نے وفاقی وزراشبلی فراز اور فخر امام کی پریس کانفرنس پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے