کراچی آرٹس کونسل میں جاری بارہویں عالمی اردو کانفرنس

کراچی آرٹس کونسل میں جاری بارہویں عالمی اردو کانفرنس

کراچی: جدیدیت کا لفظ نظم اور غزل کے لیے بارہا استعمال ہوا ہے اور یہ وہ وقت تھا جب 1939 کے جدیدیت پسند حلقے نے اسے استعمال کیا عمومی سطح پر جدیدیت پسندی تخلیق پر حاوی ہوتی گئی اردو میں آزاد نظم کی پہلی اشاعت 1932 میں ہوئی

ترقی پسند کا راستہ بھی اجتماعی فکرو عمل کا راستہ تھا، مبین مرزا نے ’’جدید شعری تناظر اندیشے اور امکانات‘‘ پر مقالے میں کہاکہ شاعری سماجی رویوں پر اثر انداز ہوتی ہے ، مشاعرے تربیت گاہ کی حیثیت رکھتے آئے ہیں۔ آج مشاعرے کا تفریح گاہ بن جانا شعرو سخن کی موت ہے، شعرو سخن کی بقا کی جنگ انسان دشمن قوتیں کبھی نہیں جیت سکتیں۔
عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے دن پہلے اجلاس میں ’’شعروسخن کا عصری تناظر‘‘ کے موضوع پر اہل علم ودانش نے مختلف عنوانات پر اپنے مقالے پیش کیے
ڈاکٹر فاطمہ حسن نے ’’جدید غزل میں نسائیت کی معنوی جہات‘‘ پر گفتگو میں کہاکہ کشور ناہید نے نظم اور نثر دونوں میں تہلکہ مچایا جبکہ فہمیدہ ریاض نے غزلیں کم لکھیں مگر اْن کی نظموں کی تعداد زیادہ ہے ، پروین شاکر کے حصے میں غیرمعمولی شہرت آئی، شاداب احسانی نے ’’اردو شاعری اور پاکستانی بیانیہ‘‘ پر مقالے میں کہاکہ جس قوم کا اپنا بیانیہ نہیں ہوتا وہ اس کا تاریک ترین پہلو ہوتا ہے، پاکستان کی بقا پاکستانی بیانیے میں ہے۔
عالمی اردو کانفرنس میں یارک شائر اعتراف کمال ایوارڈز کا انعقاد کیاگیا جس میں معروف شاعرہ شہناز نور اور شاعر کشمیر احمد عطااللہ کو یارک شائر کمال فن ایوارڈز صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ اور ایاز محمود نے پیش کیے، عنبرین حسیب عنبر، آفتاب مضطر، فاطمہ حسن، ثمن شاہ، نسیم انصاری، رضا علی عابدی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں

وفاق اور پنجاب حکومتیں اپنی نااہلی چھپانے کیلیے سندھ پر الزام لگا رہے ہیں

وفاق اور پنجاب حکومتیں اپنی نااہلی چھپانے کیلیے سندھ پر الزام لگا رہے ہیں

کراچی: سید ناصر شاہ نے وفاقی وزراشبلی فراز اور فخر امام کی پریس کانفرنس پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے