تاجروں اور ایف بی آر کے مابین کمیٹیاں تشکیل دی جارہی ہیں

تاجروں اور ایف بی آر کے مابین کمیٹیاں تشکیل دی جارہی ہیں

اسلام آباد: حکومت کی جانب سے معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی کوششوں پر تاجروں نے احتجاجاً ملک بھر میں ہڑتال کردی تھی جس کے بعد ایف بی تاجر برادری کے مطالبات پر نیم رضامند ہوگیا تھا

تاجروں کا احتجاج اس وقت شروع ہوا جب ایف بی آر نے 2 اگست کو 3 اسکیموں کے مسودے کا نوٹفکیشن جاری کیا جس میں کاروباری افراد کے لیے ٹیکس کے معاملات کو آسان بنانا، چھوٹے تاجروں کے لیے مقرر شدہ ٹیکس اور کاروبار کے لیے لائسنس کا اجرا تا کہ اس شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لایا جاسکے۔
کمیٹیوں کے حوالے سے ٹوئٹ کرتے شبر زیدی کا کہنا تھا کہ ایف بی آر چھوٹے بڑے شہروں کی ہر مارکیٹ میں ایک کمیٹی مقرر کرے گا جس میں مارکیٹ کے 2 نمائندے اور محکمہ ٹیکس کا ایک نمائندہ شامل ہوگا۔
کمیٹیوں کے قیام سے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں مندرج کرنے اور تنازعات کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔
اس سے قبل تاجروں نے مذکورہ بالا اسکیموں کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اس کے خلاف احتجاج کا دائرہ بڑھا دیا جائے گا۔
مظاہرین کے مطالبات پورے کرنے کے لیے ٹیکس قوانین میں ضروری تبدیلیاں کر کے قواعد کو حتمی شکل دے دی تھی۔
اس معاملے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’ان کے احتجاج کے باوجود ایف بی آر بڑے ہول سیلرز اور تقسیم کاروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے پر عزم ہے ہمارری توجہ صرف بڑے تاجروں پر مرکوز ہے‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں بڑے تاجروں کے سیلز ٹیکس میں اندراج کے حوالے سے کوئی مشکل درپیش نہیں‘۔
عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ ٹیکس قوانین میں تبدیلیاں پارلیمنٹ میں ’منی بل‘ پیش کر کے یا کسی اور طریقے سے کی جائیں گی تاہم شناختی کارڈ کی شرط پر کوئی تبدیلی نہیں ہوگی‘۔
مظاہرین کے مطالبات پورے کرنے کے لیے ٹیکس قوانین میں ضروری تبدیلیاں کر کے قواعد کو حتمی شکل دے دی تھی۔
اس معاملے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’ان کے احتجاج کے باوجود ایف بی آر بڑے ہول سیلرز اور تقسیم کاروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے پر عزم ہے ہمارری توجہ صرف بڑے تاجروں پر مرکوز ہے‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں بڑے تاجروں کے سیلز ٹیکس میں اندراج کے حوالے سے کوئی مشکل درپیش نہیں‘۔
عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ ٹیکس قوانین میں تبدیلیاں پارلیمنٹ میں ’منی بل‘ پیش کر کے یا کسی اور طریقے سے کی جائیں گی تاہم شناختی کارڈ کی شرط پر کوئی تبدیلی نہیں ہوگی‘۔

یہ بھی پڑھیں

نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس اسکینڈل میں 22 کروڑ 40 لاکھ روپے برآمد کرکے حکومت سندھ کے حوالے

نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس اسکینڈل میں 22 کروڑ 40 لاکھ روپے برآمد کرکے حکومت سندھ کے حوالے

اسلام آباد: جاوید اقبال نے سندھ کے چیف سکریٹری ممتاز علی شاہ کو 22 کروڑ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے