تازہ ترین
موجودہ قوانین کے مطابق سگریٹ کے پیکٹ پر گرافک صحت سے متعلق انتباہ پیکٹ کے سائز کا 60 فیصد ہونا ضروری

موجودہ قوانین کے مطابق سگریٹ کے پیکٹ پر گرافک صحت سے متعلق انتباہ پیکٹ کے سائز کا 60 فیصد ہونا ضروری

اسلام آباد: جنوری 2015 میں حکومت نے سگریٹ کے پیکٹوں پر صحت سے متعلق صحت کا انتباہی سائز 45 فیصد سے بڑھا کر 85فیصد کرنے کا ایس آر او جاری کیا اور پانچ ماہ کے اندر ہی پیکٹ پر ایک تصویر لگا دی گئی فیصلہ قومی صحت خدمات (این ایچ ایس) کی سا بق وزیر سائرہ افضل تارڑ نے کیا تھا جس کے بعد انہیں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے نوازا بھی تھا تاہم اس پر کبھی عمل نہیں ہوا

فیصلے پرعمل درآمد نہ ہونے کے خلاف سول سوسائٹی کے کارکنوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل سنگل بینچ نے چند روز قبل ایک مختصر حکم جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت دو ہفتوں میں مذکورہ نوٹیفکیشن کو نافذ کرنے یا منسوخ کرنے کا فیصلہ کرے۔
موجودہ قوانین کے مطابق سگریٹ کے پیکٹ پر گرافک صحت سے متعلق انتباہ پیکٹ کے سائز کا 60 فیصد ہونا ضروری ہے۔
سائز میں اضافے کا اعلان 2017 میں ایک ایس آر او کیا گیا تھا جس نے 2015 نوٹیفکیشن کی جگہ لے کر اس سائز کو 85 فیصد تک بڑھا دیا۔
ماہرین صحت کے مطابق خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں سگریٹ کے ڈبے پر انتباہ کا سائز چھوٹا ہے۔
نیپال میں صحت کی انتباہ پیکٹ کا 90 فیصد، ہندوستان میں 85 فیصد اور سری لنکا میں 80 فیصد ہے۔
ایچ ڈی ایف کے سی ای او اظہر سلیم نے کہا کہ بڑے پیمانے پر آگاہی پیدا کرنے اور تمباکو کی کھپت کو کم کرنے کے لیے سگریٹ کے پیک پر صحت سے متعلق انتباہی ثابت کارگر اور اس میں سرمایہ کاری کے خلاف مؤثر اقدام ہیں
انہوں نے کہا کہ صحت سے متعلق انتباہ کی اہمیت مختلف تحقیقی مقالات کے ذریعہ ثابت ہوئی ہے۔
تمباکو کنٹرول کے فریم ورک کنونشن (ایف سی ٹی سی) کے تحت دستخط کنندگان کے لیے لازمی ہے کہ وہ سگریٹ کے پیکٹ پر صحت سے متعلق انتباہی گرافک اور متن کو واضح کرے۔
ایف سی ٹی سی کے دستخط کنندگان کو صحت عامہ سے متعلق قوانین اور پالیسیاں مرتب کرتے وقت تمباکو کی صنعت سے متاثر نہیں ہونا چاہیے لیکن یہاں صورتحال قدرے مختلف ہے کیونکہ سرکاری ادارے آسانی سے تمباکو کی صنعت سے متاثر ہوتے ہیں’۔
انسداد تمباکو مہم کے نمائندے ملک عمران نے کہا کہ تمباکو کی صنعت پوری طرح سے حکمت عملی تیار کر رہی ہے کہ کس طرح تمباکو کنٹرول مہم کو غیر موثر بنایا جا سکے اور تمباکو کنٹرول پر کام کرنے والے سرکاری محکموں کو متاثر کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ ایشیا کے دوسرے ممالک سگریٹ کے پیکٹ پر صحت سے متعلق انتباہ کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں جبکہ پاکستان ابھی بھی تمباکو کی صنعت کے زیر اثر ہے۔
اظہر سلیم نے بتایا کہ ‘عدالت میں دوران سماعت وزارت صحت نے تمباکو صنعت کے لابی گروپوں کے دباؤ کا شکار ہونے کا اعتراف بھی کیا’۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات روشن

پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات روشن

اسلام آباد: بھارتی میڈیا اعتراف کررہا ہے کہ پاکستان گلوبل واچ ڈاگ کو دہشتگردی کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے