غیر منظورشدہ منصوبوں کے لیے آئندہ بجٹ میں کوئی رقم مختص نہیں کی جائے گی

غیر منظورشدہ منصوبوں کے لیے آئندہ بجٹ میں کوئی رقم مختص نہیں کی جائے گی

اسلام آباد: قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے بتایا کہ انہوں نے کوئی منصوبہ منظوری کے بغیر آئندہ پبلک سیکٹڑ ڈیولپمنٹ پروگرام کا حصہ نہیں بنایا جائے گا اور نہ ہی منصوبے کی زمین خریدنے تک اسے پی ایس ڈی پی میں شامل کیا جائے گا

یہ پہلے سے ہی طے کیا جائے گا یہ منصوبے کے لیے فنڈز وفاقی حکومت فراہم کرے گی یا جس صوبے میں منصوبہ تعمیر کیا جارہا ہے اس کی حکومت۔
لاننگ ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارمز کے اجلاس کی صدارت سینیٹر آغا شاہزیب درانی نے کی جس میں نئی گج ڈیم، ایم ایل 1، موٹروے پر ٹول ٹیکس وصو؛ہ اور جی ٹی روڈ کے نئے منصوبوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایم ایل 1 کے ڈیزائن اور اس کی اپ گریڈیشن سے متعلق معاملات کا ذکر کرتے ہوئے محکمہ ریلوے کے ایک سینئر عہدیدار نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ایک ہزار 680 کلومیٹر طویل منصوبے کا 80 فیصد ڈیزائن ورک مکمل ہوچکا ہے۔
منصوبے پر 9 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی جس کے لیے حکومت 2 فیصد شرح سود پر قرض حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے جو پاک چین اقتصادی راہداری میں شامل تمام منصوبوں سے کم ترین شرح سود ہوگا۔
اس منصوبے سے 20 ہزار بلواسطہ اور ایک لاکھ 50 ہزار بلا واسطہ نوکریاں پیدا ہوں گی اور پہلے مرحلے کے تحت منصوبے کے 4 سیکشنز کی تکمیل میں 3 سے 4 سال کا عرصہ لگے گا۔

یہ بھی پڑھیں

خواجہ آصف نے وزیر اعظم اور مجھ پر انھیں جانی نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا

خواجہ آصف نے وزیر اعظم اور مجھ پر انھیں جانی نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا

اسلام آباد:عثمان ڈار نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو خط لکھ کر خواجہ آصف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے