’ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ پاکستان کے حق میں ہو گا

پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ کی نئی انتظامیہ میں جب دوبارہ سے ایف 16 لڑاکا طیاروں کے معاملے پر غور کیا جائے گا تو فیصلہ پاکستان کے حق میں جائے گا۔

واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ میں جس طرح کے لوگوں کی تقرری ہو رہی ہے اس سے انھیں کافی امیدیں ہیں۔

انھیں یہ احساس ہوگا کہ القاعدہ جیسے جن دھڑوں کو ہم نے تباہ کر دیا ہے وہ دوبارہ سے فعال ہو سکتے ہیں۔’

یاد رہے کہ گذشتہ سال امریکی کانگریس کے دباؤ کے بعد اوباما انتظامیہ نے پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی فروخت میں اقتصادی چھوٹ دینے سے انکار کر دیا تھا اور اس ڈیل کو روک دیا تھا۔

پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی واشنگٹن میں اپنی مدت مکمل کر کے اگلے ماہ پاکستان واپس جا رہے ہیں۔

جلیل عباس جیلانی کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی اعتماد میں بہتری کو سب

سے زیادہ ترجیح دے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی پاکستان پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کے آثار فی الحال نظر نہیں آئے ہیں۔

اسی ہفتے آنے والی ٹرمپ انتظامیہ میں امریکی وزیر دفاع کے عہدے کے لیے نامزد کیے گئے ریٹائرڈ جنرل جیمز میٹس نے کانگریس میں اپنی تقرری کی منظوری کے حوالے سے سوالوں کے تحریری جواب میں کہا تھا کہ پاکستان کو طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انھیں یہ عہدہ مل جاتا ہے تو جو شدت پسند طاقتیں افغانستان کی سلامتی کو نقصان پہنچا رہی ہیں پاکستان میں ان کے پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے لیے اٹھائے جا رہے اقدامات کی تحقیقات کریں گے۔

غور طلب ہے کہ پاکستان کو دیئے جانے والے ایف 16 طیاروں پر روک اور اقتصادی مدد میں کمی کی سب سے بڑی وجہ یہی کہی گئی تھی کہ پاکستان نے حقانی نیٹ ورک اور دوسرے شدت پسند گروہوں کے خلاف وہ قدم نہیں اٹھائے جن کا وہ دعویٰ کرتا رہا ہے۔

لیکن جنرل جیمز میٹس نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خاصا نقصان اٹھایا ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف باہمی تعاون جاری رکھنے کے لیے کام کریں گے۔

‘فوجی مدد پر شرائط لگانے کا ملا جلا اثر رہا ہے اور ہم تمام پہلوؤں پر غور کریں گے۔ خاص طور سے ہمیں ان اقدامات پر نظر رکھنی ہوگی جن سے پاکستان میں موجود شدت پسند گروہوں کو مدد ملتی ہے۔’

گذشتہ آٹھ سالوں میں پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں تلخی بڑھی ہے اور خاص طور سے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف یکطرفہ امریکی کارروائی کے بعد سے باہمی اعتماد میں کمی واقع ہوئی۔

پاکستان کے واشنگٹن میں سفیر جلیل عباس جیلانی کا کہنا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ آنے والی انتظامیہ علاقائی کشیدگی خاص طور سے انڈیا کے ساتھ جو مسائل ہیں ان کو حل کرنے کے لیے کارگر قدم اٹھائے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئے امریکی نائب صدر مائیک پنس نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے پر جو باتیں کہیں تھیں اس سے ان کی امیدیں بڑھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

امریکی سینیٹر کی ایران مخالف پالیسیوں پر نکتہ چینی

امریکی سینیٹر کی ایران مخالف پالیسیوں پر نکتہ چینی

۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ایران کے خلاف حکومت امریکہ کی جانب سے عائد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے