پاکستان میں اینٹی بائیوٹک یعنی بیکٹیریا کُش ادویات کا ٹائیفائیڈ پر اثر نہ ہونے کے برابر ہے

پاکستان میں اینٹی بائیوٹک یعنی بیکٹیریا کُش ادویات کا ٹائیفائیڈ پر اثر نہ ہونے کے برابر ہے

سندھ: پاکستان میں اینٹی بائیوٹک یعنی بیکٹیریا کُش ادویات کا ٹائیفائیڈ پر اثر نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی لیے صوبہ سندھ میں اس وقت 90 لاکھ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جا رہے ہیں

ماہرین کا کہنا تھا کہ اس ویکسین نے ٹائیفائیڈ کے خلاف جنگ کی کایا پلٹ دی ہے اور اس کے استعمال سے ٹائیفائیڈ سے ہونے والی اموات میں قدرے کمی کا امکان ہے۔
ٹائیفائئڈ بخار سیلمونیلا ٹائفی نامی انتہائی متعدی بیکٹیریا کی ایک قسم کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ بیکٹیریا آلودہ کھانے اور پانی کے ذریعے پھیلتا ہے۔

یہ بیماری پسماندہ ممالک میں عام ہے جہاں صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا اور صاف پانی دستیاب نہیں ہوتا۔

اس کی علامات مندرجہ ذیل ہیں:

طویل عرصے تک رہنے والا بخار
سر درد ہونا
متلی آنا
بھوک نہ لگنا
قبض
ٹائیفائئڈ اندورنی خون بہنے جیسی مہلک پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ ایسا 100 میں سے ایک فرد کے ساتھ ہوتا ہے۔

ویکسین کے تجربے کے دوران کیا ہوا؟

یپال کی کٹھمنڈو وادی میں نو ماہ سے لے کر 16 سال کے 20 ہزار سے زائد بچوں نے اس تجربے میں حصہ لیا۔
نیپال کے اس علاقے میں ٹائیفائیڈ صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔
پہلے سال میں دیکھا گیا کہ جن بچوں کو ویکسین دی گئی، ان میں ٹائیفائئڈ کیسیز کی تعداد 81 فیصد تک کم ہو گئی۔
تجربے میں حصہ رہنے والے آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈریو پولارڈ نےبتایا ’دنیا کے سب سے زیادہ غیرمحفوظ بچوں کو اس بیماری سے بچانے کے لیے یہ (ویکسین) کافی اچھی طرح کام کر رہی ہے۔‘
’ٹائیفائیڈ کا بوجھ بہت زیادہ ہے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ بچوں کو علاج کروانے کے لیے ہسپتال لے کر جاتے ہیں اور اینٹی بائیوٹک سے علاج اور مرض کی جانچ پر آنے والے خرچے میں ڈوب کر غربت کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘
’اس مرض پر قابو پانے کے لیے اس ویکسین کی آمد ایک بڑا لمحہ ہے۔‘
اب یہ معلوم کیا جائے گا کہ تجربے میں شامل نیپال، مالاوی اور بنگلہ دیش کے بچوں کو ویکسین کتنے عرصے کے لیے بیماری سے محفوظ رکھے گی۔
ٹائیفائیڈ ویکسین ایکسلیریشن کنسورٹیئم کی ڈائریکٹر ڈاکٹر کیتھلین نیوزل کہتی ہیں کہ ویکسین بیماری کو ’کم کر سکتی ہے اور اُن علاقوں میں زندگیاں بچا سکتی ہے جہاں صفائی اور صاف پانی کی قلت ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے تنبیہ کی ہے کہ ٹائیفائیڈ نے اینٹی بائیوٹک کے خلاف ’بہت بڑی حد تک‘ مدافعت پیدا کر لی ہے اور دنیا میں دستیاب علاج اپنی حد تک پہنچ چکا ہے
ترقی پزیر ممالک میں تیزی سے شہروں کی طرف نقل مکانی کی وجہ سے صاف پانی اور ٹوائلٹ جیسی بنیادی سہولیات کئی ممالک کے لیے مہیا کرنا ناممکن ہے۔
اگرچہ ٹائیفائیڈ کے لیے دو ویکسینز دستیاب ہیں، ان دونوں میں سے ایک بھی دو سال سے کم عمر کے بچوں کو نہیں دی جا سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آبادی کے سب سے کمزور بچے غیر محفوظ ہیں۔
پاکستان میں بڑے پیمانے پر ادویات کے خلاف مدافعت پیدا کرنے والے ’ایکسٹینسِولی ڈرگ رِزسٹنٹ (ایکس ڈی آر) ٹائیفائئڈ بخار کی وبا عام ہے۔
پسماندہ ممالک میں بچوں کو ویکسین کی فراہمی کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے گیوی کے چیف ایگزیکیٹو ڈاکٹر سیتھ برکِلے نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر ادویات کے خلاف مدافعت پیدا کرنے والے ’ایکسٹینسِولی ڈرگ رِزسٹنٹ (ایکس ڈی آر) ٹائیفائئڈ بخار کی وبا عام ہے۔
ٹائیفائیڈ کی وبا کا آغاز نومبر 2016 میں صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں ہوا اور 10 ہزار سے زیادہ افراد اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔
گیوی سندھ میں 90 لاکھ بچوں کی ویکسینیشن کا خرچہ اٹھا رہا ہے۔ اب صوبہ سندھ دنیا کا وہ پہلا علاقہ بن جائے گا جہاں یہ ویکسین بچپن میں معمول کے حفاظتی ٹیکوں کا حصہ بن جائے گی۔
ڈاکٹر برکِلے کا کہنا ہے ’ٹائیفائیڈ کے خلاف جنگ میں اس ویکسین نے کایا پلٹ دی ہے اور اس کے دریافت ہونے کا اس سے بہتر کوئی وقت نہیں ہو سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں 100 ارب کی کرپشن بے نقاب ہوگئی

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں 100 ارب کی کرپشن بے نقاب ہوگئی

کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں 100 ارب کی کرپشن بے نقاب ہوگئی، سندھ لوکل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے