خصوصی عدالت کا کہنا ہے 17 دسمبر تک دلائل مکمل نہ ہوئے تو فیصلہ سنا دیں گے

خصوصی عدالت کا کہنا ہے 17 دسمبر تک دلائل مکمل نہ ہوئے تو فیصلہ سنا دیں گے

اسلام آباد: نئی پراسیکیوشن ٹیم کی طرف سے پیش ہونے والے وکلاء نے تیاری کے لیے وقت کی درخواست کی گئی جس پر جسٹس سیٹھ وقار نے ریمارکس دیئے کہ باقی کیسز کو سائیڈ پر رکھ کر یہ مقدمہ لڑیں

خصوصی عدالت میں پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت جسٹس سیٹھ وقار کی سربراہی میں ہوئی

جسٹس نذر اکبر نے ریمارکس دیئے نہیں چاہتے کہ پراسیکیوشن کے ہاتھوں میں کھیلا جائے، کیس کی تیاری کے لیے 4 دن بہت ہیں۔
جسٹس سیٹھ وقار نے کہا کہ عدالت کے ججز ملک کے مختلف حصوں سے آتے ہیں۔
پراسیکیوٹر علی ضیاء باجوہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ہمارے اوپر بہت دباؤ ہے، جس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ وکیل اور عدالت پر کیا دباؤ ہو سکتا ہے، وکیل کا کام عدالت کی معاونت کرنا ہے۔
پراسیکیوٹر علی ضیاء باجوہ نے کہا کہ 15 دنوں کا وقت کیس کی تیاری کے لیے دے دیا جائے۔
جسٹس سیٹھ وقار نے ریمارکس دیئے کہ 15 دن کے بعد کوئی التواء نہیں دیا جائے گا، آرڈر میں لکھ دیں گے کہ 17 دسمبر تک اپنے دلائل دے دیں۔
ریمارکس میں مزید کہا کہ 17 دسمبر تک کیس ملتوی کر رہے ہیں،17 دسمبر سے دو دن پہلے تک دلائل تحریری طور پر جمع کرا دیں، اگر کوئی بیمار ہوا یا التواء مانگا گیا تو فیصلہ سنا دیں گے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کو سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا محفوظ فیصلہ سنانے سے روک دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس اسکینڈل میں 22 کروڑ 40 لاکھ روپے برآمد کرکے حکومت سندھ کے حوالے

نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس اسکینڈل میں 22 کروڑ 40 لاکھ روپے برآمد کرکے حکومت سندھ کے حوالے

اسلام آباد: جاوید اقبال نے سندھ کے چیف سکریٹری ممتاز علی شاہ کو 22 کروڑ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے