موجودہ حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کو معمول کی کارروائی بنادیا ہے

موجودہ حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کو معمول کی کارروائی بنادیا ہے

اسلام آباد: اعظم سواتی نے آرڈیننس پیش کیا پاکستان مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے آرڈیننس کے ذریعے حکومت چلانے پر پاکستان تحریک انصاف حکومت کا سخت تنقید کا نشانہ بنایا

وزیر منصوبہ بندی سی پیک منصوبوں کی نگرانی کرنے والے احسن اقبال نے آرڈیننس پیش کرنے کو پارلیمانی کمیٹی کی ’توہین‘ قرار دیا جس نے آرڈیننس کے ذریعے سی پیک اتھارٹی کے قیام کی مخالفت کی تھی۔
پارلیمانی کمیٹی کے اراکین نے سمجھتے ہیں کہ اتھارٹی کا قیام سی پیک منصوبے کو نقصان پہنچائے گا اس لیے حکومت کو تجویز دی گئی تھی کہ بات چیت کے ذریعے معمول کی قانون سازی کی جائے۔
احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن پارلیمانی کمیٹی کی تجویز کے برخلاف آرڈیننس پیش کرنے کے اقدام کی مذمت کرتی ہے۔
نوید قمر کا کہنا تھا آئین میں صرف مخصوص صورتحال کے تحت آرڈیننس پیش کیے جانے کی اجازت دی گئی تھی لیکن موجودہ حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کو معمول کی کارروائی بنادیا ہے۔
قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے کہا کہ مذکورہ آرڈیننس بل کی شکل میں پیش کیا گیا ہے جسے کمیٹی کو ارسال کیا جائے گا جہاں اپوزیشن اپنے تحفظات کا اظہار کرسکتی ہے۔
صدر مملکت عارف علوی نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین سے قبل اکتوبر میں آرڈیننس پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد حکومت نے لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کو سی پیک اتھارٹی کا چیئرمین تعینات کیا تھا۔
نوید قمر کا کہنا تھا کہ حکومت یہ سب کر کے توہین عدالت کی مرتکب ہوسکتی ہے کیوں کہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایک فیصلے میں لفظ وفاقی کابینہ کو پوری کابینہ کی نمائندگی قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس اسکینڈل میں 22 کروڑ 40 لاکھ روپے برآمد کرکے حکومت سندھ کے حوالے

نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس اسکینڈل میں 22 کروڑ 40 لاکھ روپے برآمد کرکے حکومت سندھ کے حوالے

اسلام آباد: جاوید اقبال نے سندھ کے چیف سکریٹری ممتاز علی شاہ کو 22 کروڑ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے