بھاگتے تارکین وطن کو گرانے والی کیمرہ خاتون کو سزا

ہنگری کی پیٹرا لیزلو کو ستمبر 2015 میں تارکین وطن کو لات مارنے اور گرانے پر عدالت نے تین سال تک اچھے چال چلن برتنے کے آزمائشی دورانیے کی سزا سنائی ہے۔

دو سال قبل پیٹرا لیزلو کی ویڈیو بنائی گئی تھی جس میں وہ ہنگری اور سربیا کی سرحد پر بھاگتے ہوئے تارکین وطن کو لات مارتے ہوئے اور ان کو گراتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ ان تارکین وطن میں ایک کم عمر بچی بھی تھی اور ایک مرد جس کی گود میں ایک نومولود بچہ بھی تھا۔

پیٹرا لیزلو نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گی۔

جج الیس نناسی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پیٹرا لیزلو کا رویہ سماجی اخلاقیات کے خلاف تھا اور وکیل دفاع کے دلائل کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ پیٹرا لیزلو صرف اپنے آپ کو بچا رہی تھیں۔

پیٹرا لیزلو نے اپنے دفاع میں کہا کہ: ’میں نے مڑ کر دیکھا کہ ایک بڑی تعداد میں لوگ میری طرف دوڑ کر آرہے ہیں اور میرے لیے یہ بہت خوفناک تھا۔‘

پیٹرا لیزلو زیگید ڈسٹرکٹ کورٹ میں ویڈیو لنک کی مدد سے پیش ہوئیں اور وقفے وقفے سے سسکیاں لیتی رہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان کو اس واقعے کے بعد سے موت کی دھمکیاں بھی ملتی رہیں اور نفرت انگیز مہم کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔

پیٹرا کو ٹی وی چینل این ون ٹی وی نے اس ویڈیو کے وائرل ہو جانے کے بعد نوکری سے نکال دیا تھا۔

 

یہ بھی پڑھیں

امریکی سینیٹر کی ایران مخالف پالیسیوں پر نکتہ چینی

امریکی سینیٹر کی ایران مخالف پالیسیوں پر نکتہ چینی

۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ایران کے خلاف حکومت امریکہ کی جانب سے عائد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے