محمدی دربار کا منصوبہ ہے کہ عراق کے شہر نجف سے کربلا تک کی سڑک پر پودے لگائے جائیں

محمدی دربار کا منصوبہ ہے کہ عراق کے شہر نجف سے کربلا تک کی سڑک پر پودے لگائے جائیں

کراچی: مسلمانوں کے نزدیک مقدس سمجھے جانے والے دو شہروں نجف اور کربلا کو ملانے والی سڑک پر سایہ دار درخت موجود نہیں ہیں

بس یہیں سے محمدی دربار کے دل میں خیال آیا کہ انھیں اس 75 کلومیٹر طویل سڑک پر پودے لگانے چاہییں۔
ہر سال صفر کے مہینے میں امام حسین کے چہلم (اربعین) میں شرکت کے لیے لاکھوں افراد عراق آتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر افراد اسی سڑک پر چلتے ہوئے نجف سے کربلا پہنچتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’پودے تو میں نے تیار کر لیے تھے لیکن اب مجھے انھیں عراق بھجوانے اور وہاں لگانے کے لیے اجازت کی ضرورت تھی جو میرے پاس نہیں تھی۔‘
اس مقصد کے لیے انھیں پاکستانی اور عراقی دونوں حکومتوں سے اجازت درکار تھی۔ پاکستانی حکومت سے اجازت ملنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’ہماری بیوروکریسی کہاں مدد کرتی ہے۔ خیر میں نے کسی طرح اجازت لے ہی لی۔‘
پھر ایک سال قبل انھوں نے عراق کا سفر کیا، وہاں عہدیداروں سے بات کی اور پودے لگانے کے اپنے منصوبے کے بارے میں بتایا اور اس بات کا بھی وعدہ کیا کہ وہ درختوں کی دیکھ بھال کریں گے۔
عراق دورے کے موقع پر وہ کراچی سے کچھ پنیریاں بھی ساتھ لے گئے تھے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون سا پودا یہاں کی گرمی سہہ پائے گا اور کون سا پروان نہیں چڑھے گا۔
پودے لگانے کے بارے میں محمدی کا منصوبہ سن کر عراقی حکومت نے فوراً اجازت دے دی۔
اس وقت نجف میں موجود محمدی دربار کہتے ہیں کہ ’وہاں تو سب لوگوں نے بہت مدد کی۔ جب میں نے پنیریاں لگائیں تو انھوں نے بتایا کہ کون سا پودا یہاں لگ سکتا ہے، ان لوگوں سے مجھے بتایا کہ کون کون سا پودا زائرین کو بیمار کر سکتا ہے اور کون سے پودے بہت اچھے چلیں گے۔‘
ان کا تجربہ کامیاب رہا۔
’میں نے دیکھا کہ میری لگائی پنیریاں بہت اچھے سے پھل پھول گئی ہیں۔ میں نے نیم کے درخت لگائے اور وہی پودا جو پاکستان میں تین سال میں تیار ہوتا یہاں چھ مہینے میں پھل پھول گیا۔
اس چیز نے ان کی مزید حوصلہ افزائی کی۔ ’میں نے 50 ہزار نیم کے پودے تیار کیے۔ ابھی پہلے مرحلے میں میں صرف 9800 پودے ہی لا رہا ہوں۔‘
انھوں نے بتایا کہ وہ تقریباً 11 مختلف اقسام کے پودے لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
عراق میں ان دنوں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔ اسی وجہ سے محمدی دربار کو چند مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی بھیجی گئی پودوں کی کھیپ بھی ایک ماہ مؤخر ہوئی۔
تاہم انھوں نے بتایا کہ کسٹمز سے پاس ہونے کے بعد پودوں کی پہلی کھیپ لانے والے ٹرک بذریعہ ایران آج عراق پہنچ رہے ہیں اور وہ یہاں بے صبری سے اس کا انتظار کر رہے ہیں۔
انھیں یقین ہے کہ پودے اچھی حالت میں عراق پہنچیں گے۔
محمدی نے بتایا کہ پاکستان سے آنے والے پودوں کی کھیپ کے ساتھ تین ماہرین بھی ہیں۔ ’عراقی حکومت سے میری یہی بات ہوئی تھی کہ تین ماہرین میں لاؤں گا اور مزدور عراقی حکومت فراہم کرے گی۔‘
عراق پہنچنے کے بعد یہ پودے موسم سرماِ بغداد کی ایک نرسری میں گزاریں گے اور مارچ میں انھیں لگانے کے منصوبے کا آغاز ہوگا۔ محمدی چاہتے ہیں کہ مارچ سے پہلے پہلے وہ ٹریکٹر اور پودوں کے لیے گڑھے کھودنے والی مشین عراق لا سکیں۔
عراقی حکومت نے ان پودوں کو رکھنے کے لیے جگہ فراہم کی ہے، جبکہ پودے لگانے کے لیے آٹھ مزدوروں کی ضرورت ہوگی۔ ان مزدوروں اور ماہرین کی تنخواہ عراقی حکومت دے گی جبکہ لانے اور لے جانے کا خرچہ محمدی کا ہے۔
ان کے عراق میں رہنے کے لیے بندوبست بھی عراقی حکومت نے کیا ہے۔
ابتدائی مرحلے میں 50 ہزار پودے لگائے جائیں گے لیکن محمدی دربار اس تعداد کو پانچ لاکھ تک لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ہ انھوں نے پچھلے تین ماہ میں یہاں پودوں کی نشونما اور پانی کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے اور انھیں یہ جان کر بہت خوشی ہے کہ ’یہاں پانی کی اتنی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘
’صرف دو سال مجھے ان کی دیکھ بھال کرنی پڑے گی، بعد میں یہ خود پھل پھول جائیں گے۔`
محمدی نے بتایا کہ نگرانی کے لیے وہ خود عراق کا سفر کرتے رہیں گے اور اس کے علاوہ اپنے تین ماہرین بھی عراق میں ہی رکھیں گے۔
محمدی کہتے ہیں ’یہاں تو خرچے کا سوال ہی نہیں، امام حسین کی خدمت کے لیے میرے سے جو کچھ ہو سکا میں کرتا جاؤں گا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر میرے خاندان والے میرا ساتھ نہ دیتے تو اس عمر (85 سال) میں میرے لیے یہ سب کرنا ممکن نہ تھا۔‘
مستقبل میں محمدی، امام حسین اور ان کے بھائی حضرت عباس کے روضوں کے اطراف گل موہر کے درخت لگانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

دنیا بھر میں نئے صوبے بن رہے ہیں ہم 72 سال پیچھے کھڑے ہیں

دنیا بھر میں نئے صوبے بن رہے ہیں ہم 72 سال پیچھے کھڑے ہیں

کراچی: میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں نئے صوبے بن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے