رعایتی نرخوں پر گندم نہ ملنے کے باعث آٹے کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ

رعایتی نرخوں پر گندم نہ ملنے کے باعث آٹے کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ

بلوچستان: گزشتہ دو ماہ کے دوران چار مرتبہ قیمتوں میں اضافے کے بعد فی کلو آٹے کی قیمت 53 روپے تک جا پہنچی ہے جس نے شہریوں کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے

بلوچستان میں گندم کی قلت کے باعث آٹے کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اس کے سبب 100 کلو آٹے کی بوری کی قیمت 5 ہزار 300 روپے تک پہنچ گئی ہے
گزشتہ دو ماہ کے دوران چار مرتبہ قیمتوں میں اضافے کے بعد فی کلو آٹے کی قیمت 53 روپے تک جا پہنچی ہے جس نے شہریوں کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔
شہر کے نان بائیوں نے بھی روٹی کا وزن کم کر دیا ہے اور 300 گرام آٹے کی روٹی 20 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔
اس سلسلے میں سیکریٹری خوراک بلوچستان محبوب شاہوانی کا کہنا ہے کہ اس سال مارچ میں گندم کی خریداری نہ ہونے کی وجہ سے آٹے کی ریٹس میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب محکمہ خوراک نےگندم کی 5 لاکھ بوریوں کی خریداری کے لیے سمری وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کو بھجوا دی ہے۔
سمری کی منظوری کے بعد پاسکو سے گندم کی خریداری شروع کر دی جائے گی جس کے بعد آٹے کی قیمت میں کمی آئے گی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان گندم کی بروقت خریداری نہ ہونے پر سابق سیکریٹری خوراک اصغر حریفال اور اس وقت کے ڈی جی محمد طارق کو معطل کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بارود سے بھری گاڑی کی شہر میں داخلے کی کوشش ناکام

بارود سے بھری گاڑی کی شہر میں داخلے کی کوشش ناکام

کوئٹہ: سی ٹی ڈی اورحساس اداروں نے کوئٹہ میں آنے والی بارود سے بھری مشتبہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے