امریکی صدر براک اوباما کا الوداعی خطاب

امریکی صدر براک اوباما نے شکاگو میں اپنا الوداعی خطاب کیا جس میں انھوں نے کہا کہ ‘امریکہ اب پہلے سے زیادہ بہتر اور محفوظ جگہ ہے۔’

اوباما نے اپنے آخری خطاب میں اپنی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور تمام امریکیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ ’امریکہ کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔‘

تاہم انھوں ںے خبردار کیا کہ ’جمہوریت کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔‘

انھوں نے تمام پس منظر سے تعلق رکھنے والے امریکیوں سے کہا کہ ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں کیونکہ ’ہمیں اوروں کو توجہ دینی اور سننا ہے۔

براک اوباما نے اپنے روایتی انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کی پرامن منتقلی امریکی جمہوریت کی علامت ہے۔

ان کے بعد اقتدار اب نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو منتقل ہو گا، جو کہہ چکے ہیں کہ وہ صدر اوباما کی جانب سے کیے جانے والے بعض معاہدے ختم کر دیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ 20 جنوری کو بطور امریکی صدر اپنا عہدہ سنبھال لیں گے۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا تھا کہ باراک اوباما ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں سمیت ہر ایک امریکی سے خطاب کریں گے۔

براک اوباما نے کہا کہ وہ وائٹ ہاؤس سے خطاب کرنے کی بجائے وہیں جانا چاہتے تھے ’جہاں سے ان کے اور خاتون اول مشیل اوباما کے لیے یہ سب شروع ہوا تھا۔‘

یہ براک اوباما کا شکاگو کا آخری دورہ اور ایئر فورس ون پر 445واں سفر ہے۔ امریکی صدر نے 2008 میں منتخب ہونے کے بعد پہلا خطاب بھی شکاگو میں ہی کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’آٹھ سال پہلے کی نسبت اس وقت امریکہ ہر لحاظ سے بہتر اور مضبوط جگہ ہے۔‘

امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر جن کی عمر اس وقت 55 برس ہے پہلی مرتبہ 2008 میں امید اور تبدیلی کے وعدوں پر منتخب ہوئے تھے۔

خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شمالی امریکہ کے سب سے بڑے کنونشن سینٹر مک کورمک پلیس جہاں صدر اوباما نے 2012 کے صدارتی انتخاب میں مٹ رومنی کو شکست دینے کے بعد خطاب کیا تھا وہاں بدھ کے روز ان کے الوداعی خطاب میں شرکت کرنے والوں کی تعداد 20 ہزار سے زائد ہوگی۔

الوداعی تقریب میں امریکی خاتونِ اول مشیل اوباما، نائب صدر جو بائڈن اور ان کی اہلیہ جل بائڈن موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں

مقبوضہ کشمیر میں مظالم، کینیڈا کا بھارتی فوجیوں کو ویزہ دینے سے صاف انکار

مقبوضہ کشمیر میں مظالم، کینیڈا کا بھارتی فوجیوں کو ویزہ دینے سے صاف انکار

اوٹاوا: مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کے بعد کینیڈا نے سابق بھارتی فوجی افسران …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے