مصر صحافتی ادارے مدی مصر کے دفتر پر چھاپہ

مصر صحافتی ادارے مدی مصر کے دفتر پر چھاپہ

قائرہ: سیکیورٹی فورسز جاچکی ہیں، ہمارے دفاتر میں داخل ہونے والے ایک شخص کے مطابق ہمیں صرف ہمارے فونز اور لیپ ٹاپس واپس ملے ہیں، لینا اتالا، محمد حمامہ اور رانا ممدوہ کو پروسیکیوشن سروس لے جایا گیا ہے

مدی مصر نے سوشل میڈیا پر جاری پوسٹ میں لکھا کہ سادہ لباس میں ملبوس 9 افسران نے کئی گھنٹوں تک ویب سائٹ کے صحافیوں سے پوچھ گچھ کی، ان سے فونز اور لیپ ٹاپ ان لاک کرکے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔
گرفتار کیے گئے صحافی اس وقت کہاں ہیں اس حوالے سے کچھ معلوم نہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر ڈیڑھ بجے مدی مصر کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا تھا، اس چھاپے سے ایک روز قبل اسی ویب سائٹ پر 2014 سے وابستہ 37 سالہ نیوز ایڈیٹر شیدی زلات کو ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔
نیوز ویب سائٹ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بتایا گیا کہ ‘شیدی زلات کو گزشتہ شام ساڑھے 5 بجے رہا کیا گیا تھا’۔
مصری ویب سائٹ مدی مصر عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں کرپشن اور سیکیورٹی مسائل سے متعلق تحقیقات شائع کرتی ہے۔
گزشتہ برس مصر کی عدالت نے الجریزہ چینل کے صحافی محمود حسین کی حراست میں 17 ویں مرتبہ توسیع کی تھی جنہیں 20 دسمبر 2016 کو قائرہ کے ایئرپورٹ پر اس وقت گرفتار کیا تھا، جب وہ چھٹیاں منا کر مصر واپس پہنچے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

’اسنیپ چیٹ‘ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایپلیکیشن پر تشہیر روک دی

’اسنیپ چیٹ‘ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایپلیکیشن پر تشہیر روک دی

واشنگٹن: ٹرمپ نے حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر سیاہ فاموں کی جانب سے احتجاج اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے