سردار عثمان بزدار کی تبدیلی کے مطالبات زور پکڑگئے ہیں

سردار عثمان بزدار کی تبدیلی کے مطالبات زور پکڑگئے ہیں

لاہور:عوامی سطح پر پنجاب کی حکومت کے خلاف کوئی بیان نہیں دیتے لیکن وہ پسِ پردہ انٹرویوز میں اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی حکومت صوبہ پنجاب کو چلانے میں ناکام ہورہی ہے

ہاں، ہم عثمان بزدار کی اب تک کارکردگی سے غیرمطمئن ہیں اور پی ٹی آئی میں موجود اکثریت ایک بہتر اور سرگرم سیاسی شخصیت ان کے متبادل لانا چاہتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ : کیسے کیا جائے؟’
پارٹی میں دباؤ ڈالنے والےگروہ موجود ہیں اور اتحادیوں (پاکستان مسلم لیگ ق) کے مقاصد بھی اب چھپے نہیں رہے اور مطلوبہ تبدیلی لانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے’۔
شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پارٹی رہنماؤں جیسا کہ سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر خان ترین، گورنر پنجاب چوہدری سروس، سابق صوبائی وزیر عبدالعلیم خان اور وزیر اطلاعات پنجاب میاں اسلم اقبال کے گروہ موجود ہیں۔
پارٹی رہنما نے کہا کہ اس صورتحال میں تمام گروہوں پر ایک پیج پر لانا اور اس عہدے کے لیے ایک نام پر اتفاق رائے پیدا کرنا بہت مشکل ہے۔
پاکستان مسلم لیگ(ق) کئی مواقع پر کہہ چکی ہے کہ اگر موجودہ وزیراعلیٰ کو ہٹادیا جائے تو وہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت کی حمایت سے متعلق دوبارہ غور کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں

ہم مولانا فضل الرحمان کی گزشتہ پارلیمان کی تقریروں کی روشنی میں آگے بڑھ رہے ہیں

ہم مولانا فضل الرحمان کی گزشتہ پارلیمان کی تقریروں کی روشنی میں آگے بڑھ رہے ہیں

سیالکوٹ: پارلیمان اس وقت تک جعلی نہیں ہو سکتی جب تک مولانا فضل الرحمان کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے