کچھ کھانے بے ضرر لگتے ہیں لیکن ان میں خطرات چھپے ہیں

کچھ کھانے بے ضرر لگتے ہیں لیکن ان میں خطرات چھپے ہیں

حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی چیز بغیر احتیاط کے نہیں کھائی جا سکتی: خوراک کے انتخاب سے لے کر اسے پکانے یا اس کی تیاری کے عمل تک۔ انسان نے کئی صدیوں کے تجربوں کے بعد یہ اندازہ لگایا ہے کہ وہ اشیا کون سی ہیں جو زہریلی ہونے یا دیگر وجوہات کی بنا پر نہیں کھائی جا سکتیں

ان اقدامات کے بغیر کچھ غذائیں ایسے ہیں جو کھانے والوں کو نہایت بیمار کر سکتی ہیں، جن کی علامات میں متلی سے لے کر دماغی کی بیماری بھی شامل ہو سکتی ہیں اور ان کے نتیجے میں انسان کی موت تک ہو سکتی ہیں۔
خوراک کو بری حالت میں رکھنے یا غلط طرح پکانے سے بھی متلی، دم گھٹنے یا دماغی بیماری جیسی علامات ہو سکتی ہیں۔

یہ وہ پانچ چیزیں ہیں جنھیں کھانے سے پہلے بہت احتیاط برتنا ضروری ہے۔ بلکہ اگر آپ کو نیچے دیے گئے چند پہلو سمجھ نہ آئیں تو بہتر ہیں کہ ان کھانوں کو نہ ہی کھایا جائے۔

1۔ پفر مچھلی
پفر مچھلی بہت خطرناک ہو سکتی ہے۔
اس میں ٹیٹروڈو ٹاکسن ہوتا ہے جو کہ ایک زہریلا مادہ ہے اور اسے سائنائیڈ سے بھی زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
تاہم ان مضر اثرات کے باوجود پفر فش کو کچھ ممالک میں ایک نفیس غذا سمجھا جاتا ہے۔
جاپان میں فوگو (جو کہ تیار کی گئی پفر مچھلی کا ہی نام ہے) کو اکثر کچا یا سوپ میں پیش کیا جاتا ہے۔
شیف یا باورچی کو کئی برسوں تک انتھک تربیت کے بعد ہی یہ مچھلی تیار کر کے گاہکوں کو پیش کرنے کی اجازت ملتی ہے۔
اس ڈش کی تیاری میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ جب فوگو پلیٹ تک پہنچے تو اس کے سارے زہریلے حصے بشمول دماغ، جلد، آنکھیں، جگر اور آنتڑیاں نکال دی گئی ہوں۔

2۔ کاسو مارزو پنیر
اس خوراک کو جو بات منفرد بناتی ہے وہ اس کے اندر ہی چھپی ہوئی ہے: اس چیز کے اندر کیڑے پڑے ہوتے ہیں!
ممکن ہے کہ اس تصویر کو دیکھ کر آپ کی بھوک مر جائے لیکن اٹلی کے علاقے سارڈینیا میں بننے والی اس پنیر کے دنیا میں بہت مداح ہیں۔
کاسو مارزو کو پیکورینو پنیر میں مکھی کے لاروا کو ڈال کر بنایا جاتا ہے۔ پیکورنیو پنیر پارمیژان کی طرح کی ایک لذیذ چیز ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ چھوٹے کیڑے پنیر کو نرم کر دیتے ہیں، سو جب اسے کھانے کے لیے پیش کیا جاتا ہے تو مرکز میں اس کی کثافت تقریباً مایہ جیسی ہو جاتی ہے۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ اس کا ذائقہ گورگونزولا پنیر جیسا ہے۔ گورگونزولا ایک چکنی پنیر ہے جس میں سبز لہریں ہوتی ہیں۔
کاسو مارزو کا ذائقہ کافی تیز اور منفرد ہوتا ہے، جس میں لاروے کے فضلے کا بھی ہاتھ ہے۔
پہلے تو آپ کے اضطراری افعال یا ریفلیکسز ایسے ہوں کہ آپ کیڑے پکڑ سکیں۔ کھانے کے دوران پلیٹ میں یہ کیڑے 15 سینٹی میٹر تک چھلانگ لگا سکتے ہیں۔
دوسرا یہ ہے کہ یا آسانی سے نہیں ملتی۔ کاسو مارزو خوراک کی اس فہرست میں شامل نہیں جو کہ یورپی یونین نے منظور کی ہو۔ اس لیے اسے برآمد نہیں کیا جا سکتا۔
تیسرا یہ کہ کاسو مارزو کو دنیا کی سب سے خطرناک پنیر سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کو کھانے سے صحت کو خطرہ ہے۔
یہ زیادہ خطرناک اس وقت بھی ہو جاتی ہے جب کیڑے مر جاتے ہیں کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ چیز اب کھانے کے قابل نہیں رہی۔ لیکن اگر وہ فریج میں رکھنے کی وجہ سے مریں تو یہ اور بات ہے اور اس سے کوئی خاص خطرہ نہیں ہوتا۔
اسے خراب ہونے کے بعد کھانے سے خراب پیٹ، متلی یا اسہال ہو سکتا ہے۔

3۔ روبارب یا ریوند
برطانوی کھانوں میں روبارب کی ڈنڈیاں بہت مقبول ہیں۔
یہ کئی مشہور میٹھے پکوانوں اور مشروبات کا ایک اہم جز ہے۔
لیکن آپ کو روبارب کے ساتھ بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا کیونکہ اس کی ڈنڈی کے ساتھ لگے سبز پتوں میں زہر ہوتا ہے۔
خصوصاً اس میں موجود آوکسالک ایسڈ کو اگر زیادہ مقدار میں کھایا جائے تو اس سے متلی ہو سکتی ہے، معدنیات جذب کرنے کی صلاحیت کم اور گردوں میں پتھری ہو سکتی ہے۔
اس لیے اس پر بہت بحث ہوتی رہتی ہے کہ روبارب کے پتے کتنے خطرناک ہیں۔
آوکسالک ایسڈ ڈنڈی میں بھی ہوتا ہے لیکن یہاں اس کی مقدار پتوں کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے۔
اگر کوئی شخص اس کے پتوں کی بہت زیادہ مقدار کھائے تو تب ہی موت واقع ہو سکتی ہے لیکن پھر بھی ہمارہ مشورہ ہے کہ احتیاط بہتر ہے۔

4۔ سرخ پھلیاں اور سویا بین
عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ پھلیاں اور دالیں صحت کے لیے اچھی ہیں لیکن ان کی کچھ اقسام ایسی بھی ہیں جنھیں اگر مناسب طریقے سے نہ پکایا جائے تو یہ آپ کو بیمار کر سکتی ہیں۔
سرخ پھلیاں اور سویابین اسی زمرے میں آتی ہیں۔
ان کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ان میں بہت زیادہ لحمیات، فائبر، وٹامنز اور معدنیات ہوتی ہیں۔
ان کا منفی پہلو یہ ہے کہ ان میں چربی کی ایک قسم ’فائٹوہیماگوٹینن‘ موجود ہے جس کا نہ صرف نام مشکل ہے بلکہ اس کو ہضم کرنا بھی اتنا ہی مشکل کام ہے۔
جب آپ اسے کھاتے ہیں تو اس بات کے لیے تیار رہیں کہ آپ کو پیٹ میں درد ہوگا اور اور قے بھی آسکتی ہے۔
اچھی خبر یہ ہے کہ اگر آپ پھلیوں کو اچھی طرح پکائیں تو اس ناخوشگوار کیفیت سے نجات مل سکتی ہے۔
سرخ پھلیوں کی طرح سویا بین بھی پروٹین یعنی لحمیہ سے بھری ہوتی ہیں اور ان میں اینٹی آوکسیڈنٹس بھی موجود ہوتے ہیں۔
بدقسمتی سے ان میں اینزائم ٹرپسن کی شکل میں ایک قدرتی زہر بھی ہوتا ہے جو اسے پوری طرح ہضم کرنے میں رکاوٹ ہے۔
دونوں کو پکانے سے پہلے انھیں کم از کم 12 گھنٹے پانی میں بگھونا چاہیے اور بعد میں اچھی طرح خشک اور صاف کرنا چاہیے۔

5۔ نٹمیگ یا جائفل
یہ مشہور مصالحہ انڈونیشیا کے ایک مقامی درخت سے آتا ہے۔
یہ مختلف اقسام کے بسکٹ اور لذیذ پُڈنگز کی تیاری میں ایک اہم جز ہے۔
میٹھے کے علاوہ یہ گوشت، سبزیوں اور چٹنیوں اور چند مشروبات میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
لیکن اگر اسے زیادہ مقدار میں کھایا جائے تو اس کے بہت برے اثرات ہو سکتے ہیں۔ مثلاً متلی، درد، سانس پھولنا اور دورے پڑنا۔
جائفل سے ہونے والی بدہضمی سے شاذو نادر ہی موت واقع ہو سکتی ہے لیکن یہ کوئی خاص اچھا تجربہ بھی نہیں ہوتا۔
آپ پوچھ رہے ہوں گے کہ کوئی اتنا زیادہ مصالحہ ایک وقت میں کیوں کھائے گا؟ لیکن جائفل کو صدیوں سے ایک ہیلوسینوجن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف آپ کے ذہن پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ اس سے انسان فوراً تخیل میں پرواز کرنے لگتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

چند برس قبل پانی کو ٹھنڈا کرنے کے لیے گھروں میں مٹی سے بنے مٹکے استعمال کئے جاتے تھے

چند برس قبل پانی کو ٹھنڈا کرنے کے لیے گھروں میں مٹی سے بنے مٹکے استعمال کئے جاتے تھے

زمینی مٹی سے قدرتی طور پر بے شمار معدنیات اور وٹامنز حاصل کیے جاتے ہیں، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے