تینوں طالبان رہنماؤں کی رہائی کے بعد دوحہ منتقلی

دوحہ: افغان حکومت کے ہاتھوں رہائی پانے والے تینوں سینئر ترین طالبان رہنماؤں کو قطری دارالحکومت دوحہ منتقل کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق انس حقانی سمیت طالبان کے 3سینئر رہنماؤں کو بگرام جیل سے رہا کیا گیا بعد ازاں تینوں دوحہ منتقل کیے گئے، غیر ملکی شہریوں کی رہائی تک طالبان رہنما دوحہ میں گھر میں ہی نظربند رہیں گے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق آسٹریلوی اور امریکی پروفیسر تاحال طالبان کی قید میں ہیں، جب تک ان کی رہائی عمل میں نہیں آتی انس حقانی اور دیگر دو طالبان جنگجو قطر میں حکومتی تحویل ہی میں رہیں گے۔

طالبان کے ہاتھوں اغوا کیے گئے پروفیسروں کا تعلق آسٹریلیا اور امریکا سے ہے، جن کی رہائی کے بدلے حکام نے انس حقانی سمیت تین طالبان جنگجوؤں کو آزاد کیا، یہ طالبان رہنما بگرام جیل میں قید تھے۔

افغان صدر اشرف غنی نے گزشتہ دنوں طالبان رہنماؤں کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگجوؤں کی رہائی کا مقصد مذاکرات کے لیے راہیں ہموار کرنا ہے۔ رہائی پانے والے رہنماؤں میں انس حقانی، حاجی ملک اور حافظ رشید شامل ہیں جنہیں 2014 میں اہم کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ انس حقانی کمانڈر سراج الدین حقانی کا بھائی ہے، اس کا شمار حقانی نیٹ ورک کے سرکردہ رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ امریکی پروفیسر کا نام کیون کنگ اور آسٹریلوی پروفیسر کا نام ٹموتھی ویکز ہے جو کابل میں امریکی یونی ورسٹی کے اساتذہ تھے اور 2016 میں انہیں کابل میں امریکی یونی ورسٹی کے باہر سے اغوا کیا گیا تھا۔

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ کے بھائی انتقال کرگئے

یہ بھی پڑھیں

فرانس میں پنشن سے متعلق نئے قانون کے خلاف آج پہیہ جام ہڑتال کی جا رہی ہے

فرانس میں پنشن سے متعلق نئے قانون کے خلاف آج پہیہ جام ہڑتال کی جا رہی ہے

فرانس: دارالحکومت پیرس میں 78 فی صد اسکول بند رہیں گے، ہڑتال کے باعث فرانس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے