ہجرت کرتے انسانوں کا دکھ اور اس راستے میں انسانیت کی پامالی

ہجرت کرتے انسانوں کا دکھ اور اس راستے میں انسانیت کی پامالی

ہم اردو افسانے کے ایک معتبر نام سعادت حسن منٹو کی وہ کہانیاں آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں جو مختصر نویسی میں مصنف کے کمال کی نظیر ہیں اور ظلم و ناانصافی کے اس ماحول کی عکاس ہیں۔ یہ کہانیاں منٹو کے مجموعہ ‘‘سیاہ حاشیے’’ سے لی گئی ہیں

دعوتِ عمل
آگ لگی تو سارا محلہ جل گیا۔
صرف ایک دکان بچ گئی، جس کی پیشانی پر یہ بورڈ آویزاں تھا
‘‘ یہاں عمارت سازی کا جملہ سامان ملتا ہے’
خبردار
بلوائی مالکِ مکان کو بڑی مشکلوں سے گھسیٹ کر باہر لے آئے۔
کپڑے جھاڑ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا اور بلوائیوں سے کہنے لگا۔
‘‘تم مجھے مار ڈالو لیکن خبردار جو میرے روپے پیسے کو ہاتھ لگایا۔’’

پیش بندی
پہلی واردات ناکے کے ہوٹل کے پاس ہوئی، فوراً ہی وہاں ایک سپاہی کا پہرہ لگا دیا گیا۔
دوسری واردات دوسرے ہی روز شام کو اسٹور کے سامنے ہوئی، سپاہی کو پہلی جگہ سے ہٹا کر دوسری واردات کے مقام پر متعین کردیا گیا۔
تیسرا کیس رات کے بارہ بجے لانڈری کے پاس ہوا۔
جب انسپکٹر نے سپاہی کو اس نئی جگہ پہرہ دینے کا حکم دیا تو اس نے کچھ دیر غور کرنے کے بعد کہا۔
‘‘ مجھے وہاں کھڑا کیجیے جہاں نئی واردات ہونے والی ہے۔’

یہ بھی پڑھیں

اداکاری کے باوجود شادی کے لیے سسرال کی شرط پرنوکری کرنی پڑی، نعمان اعجاز

اداکاری کے باوجود شادی کے لیے سسرال کی شرط پرنوکری کرنی پڑی، نعمان اعجاز

کراچی:  مایہ نازاداکارنعمان اعجاز کا کہنا ہے کہ اداکاری کے باوجود شادی کے لیے سسرال کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے