پیٹرول کی قیمتوں نے ایران میں آگ لگا دی، 29 ہلاک

پیٹرول کی قیمتوں نے ایران میں آگ لگا دی، 29 ہلاک

تہران: ایران میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہرے پھوٹ پڑے، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران اب تک 29 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایران کے مختلف شہروں میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، مظاہرین نے حکومت مخالف نعرے لگائے اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کردیا۔

عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ بھی کی، شہریوں سے جھڑپوں کے دوران 29 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جبکہ ردعمل میں پولیس نے بھی آنسوگیس کی شیلنگ اور واٹرکینن کا استعمال کیا، مظاہرین نے سرکاری املاک نذرآتش کردی۔

حالات کی کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکام نے دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں کا مواصلاتی نظام معطل کردیا، مظاہرین نے مختلف علاقوں میں ٹریفک کوبلاک کردیا جب کہ کچھ نے ایندھن کے اسٹوریج ہاؤس کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے مختلف شہروں میں بینکس کو بھی نذرآتش کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے برقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنادی، اب تک 1 ہزار سے زائد افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں۔ دوسری جانب سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی حمایت کردی۔

ادھر ایرانی صدر حسن روحانی نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں انتشار اور بدامنی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، احتجاج کرنے والوں اور ملکی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو حساب دینا ہوگا۔

خیال رہے کہ ایران نے پیٹرول کی قیمت میں 50 فیصد اضافہ کردیا ہے، جس کے باعث گزشتہ 3 روز سے مہنگائی، بے روزگاری اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

عالمی تجارت کو غیر منصفانہ رویوں سے خطرہ ہے، روسی صدر

یہ بھی پڑھیں

ترک صدر کے اقدامات ترکی کےلیے تکلیف دہ نتائج کا باعث بن سکتے ہیں

ترک صدر کے اقدامات ترکی کےلیے تکلیف دہ نتائج کا باعث بن سکتے ہیں

واشنگٹن: مسٹر رچ نے ایک بیان میں کہا کہ صدر اردوآن کے فیصلے اور اقدامات …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے