ڈیرہ اسماعیل خان میں دو ماہ کے دوران چار اہم سرکاری شخصیات کونشانہ بنایا گیا

ڈیرہ اسماعیل خان میں دو ماہ کے دوران چار اہم سرکاری شخصیات کونشانہ بنایا گیا

پشاور: پبلک پراسیکیوٹر اور تحصیل بار کے ممبر محمد سعید ایڈوکیٹ کو نامعلوم دہشت گردوں نے فائرنگ کے قتل کر دیا، چند روز بعد کوہستان میں ڈسٹرک ایجوکیشن آفیسر نواب علی کو انکے دفتر میں نشانہ بنایا گیا

اس واقعے کی گتھی ابھی تک نہ سلجھ سکی، 14 نومبر کو پشاور میں فائرنگ کر کے ڈی ایس پی کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ غنی خان کو شہید کر دیا گیا ، ان تینوں واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمے دار حکام ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکے۔
اسی دوران 16 نومبر کی شام ڈیرہ اسماعیل خان کے تھانہ درابن کی حدود میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر عبدالغفار کو قتل کر دیا گیا، پشاور لوئر دیر میں پبلک پراسیکیوٹر قتل کیس میں پولیس کے مطابق دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے، دونوں گرفتار ملزمان مقتول کے قریبی رشتہ دار ہیں، تاہم مرکزی ملزم کو تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

یہ بھی پڑھیں

سوات اور اس کے گرد ونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے

سوات اور اس کے گرد ونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے

اسلام آباد: زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.4 ریکارڈ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے