برطانوی فوجیوں کے ہاتھوں افغانستان اور عراق میں شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کے ٹھوس شواہد کو چھپانے کا الزام

برطانوی فوجیوں کے ہاتھوں افغانستان اور عراق میں شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کے ٹھوس شواہد کو چھپانے کا الزام

لندن: تحقیقق میں انکشاف کیا گیا کہ برطانوی حکومت کی جانب سے تنازعات میں موجود فوجیوں کے طرزِ عمل کی 2 انکوائریوں کے لیکس میں فوجیوں کو بچوں کے قتل اور شہریوں کو ٹارچر کرنے کے جرائم میں ملوث پایا گیا

برطانوی حکومت اور فوج پر عائد کیے گئے الزامات میں ایلیٹ ایس اے ایس یونٹ کے فوجی کی جانب سے قتل، بلیک واچ انفینٹری یونٹ کے ارکان کی جانب سے دوران حراست قیدیوں کی اموات، مار پییٹ، ٹارچر اور جنسی استحصال شامل ہیں۔
پینورما پروگرام کی جانب سے ایک سال کے دورانیے پر مشتمل تحیقات میں مبینہ جنگی کے شواہد بے نقاب کرنے والے فوجی جاسوسوں نے کہا کہ سینئر کمانڈرز نے اسے سیاسی وجوہات کی بنا پر چھپایا۔
ایک تفتیش کار نےبتایا کہ ‘برطانوی وزارت دفاع کا کسی سپاہی کے خلاف کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں تھا چاہے اس کا کوئی بھی رینک ہو جب تک یہ انتہائی ضروری نہ ہو اور وہ اس جھنجھٹ سے باہر نکلنے کا راستہ نہیں نکال سکتے تھے’۔
برطانوی وزارت دفاع نے الزامات کو جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ پراسیکیوٹرز اور تفتیش کاروں کے فیصلے آزاد تھے اور ان میں قانونی مشورہ شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں

برطانیہ میں پندرہ جون سے دکانیں کھل جائیں گی

لندن: برطانوی حکومت نے ملک میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا وزیراعظم بورس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے