انٹیلی جنس ایجنسیوں کو الاٹ کردہ زمین کی لاگت جاننے کے لیے وفاقی حکومت کی خدمات

انٹیلی جنس ایجنسیوں کو الاٹ کردہ زمین کی لاگت جاننے کے لیے وفاقی حکومت کی خدمات

اسلام آباد: سی ڈی اے کا کہنا تھا کہ 2009 میں ایک شہری ادارے نے زون 4 میں 45 ایکڑ زمین ایجنسی کو الاٹ کی تھی جس کے لیے وزیراعظم کی منظوری لازمی تھی

وزیراعظم نے 2018 میں منظوری دی تھی اور اب سی ڈی اے اس بات پر غور کررہا ہے کہ زمین کے لیے 2009 کی قیمت چارج کی جائے یا 2018 کی قیمت مقرر کی جائے۔
اس ضمن میں ذرائع کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سی ڈی اے کو رقم ادا کی جانی تھی کیوں کہ مذکورہ زمین سرکاری رہائش گاہوں کے لیے خریدی گئی تھی۔
سی ڈی اے کے چیئرمین عامر علی احمد کی سربراہی میں ہونے والے سی ڈی اے بورڈ کے اجلاس میں یہ معاملہ زیر غور آیا جس میں ذرائع کے مطابق تمام افراد کا موقف یہی تھا کہ زمین کی قیمت 2009 کے حساب سے طے کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے بورڈ مذکورہ معاملہ زمین کی قیمت اور ادائیگی کی قسطوں کے بارے میں رائے لینے کے لیے وفاقی حکومت کو بھجوائے گا۔
سال 2009 میں زمین کی قیمت 2 ہزار 200 روپے فی مربع گز تھی جبکہ گزشتہ برس جب وزیراعظم نے سمری منظور کی تو اس میں 2014 کی قیمت مقرر کردی گئی تھی جو 7 ہزار 200 روپے فی مربع گز تھی۔
اس بارے میں ایک سی ڈی اے عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ حکومت سے حکومت کا معاہدہ ہے یہ زمین حکومت سرکاری مقاصد کے لیے ایک حکومتی ایجنسی کے لیے خرید رہی ہے تو سہولت فراہم کرنا ہمارا فرض ہے۔
اسی اجلاس میں سی ڈی اے بورڈ نے سیکڑ 1-11/2 میں گرڈ اسٹیشن کے لیے ایک زمین کی بھی منظوری دی تا کہ رہائشیوں کو درپیش بجلی کا مسئلہ حل ہوسکے۔
علاوہ ازیں اجلاس میں سی ڈی اے کی ہاؤسنگ اسکیم پارک انکلیو 2 میں الاٹ کردہ پلاٹ کے لیے ادائیگیوں کو ری شیڈول کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
سی ڈی اے نے جنوری 2016 میں پارک انکلیو ایکسٹینشن میں 300 سے زائد پلاٹس فروخت کیے تھے اور اسے ایک سال کے عرصے میں اس علاقے میں ترقیاتی کام کروانے تھے جبکہ پلاٹ کے الاٹیز نے بروقت ادائیگیاں بھی کی تھیں۔ پلاٹ مالکان نے اپنی قسطیں جمع کروانا بند کردی تھی کیوں کہ سی ڈی اے نے زمین پر ترقیاتی کاموں کا آغاز نہیں کرسکی تھی۔
جب سی ڈی اے ترجمان سے انٹیلی جنس ایجنسی کو الاٹ کردہ 45 ایکڑ زمین کے بارے میں پوچھا گیا کہ وفاق حکومت اس معاملے کا فیصلہ کرے گی۔ جبکہ پارک انکلیو 2 کے لیے بورڈ نے قسطوں کی ادائیگی میں توسیع کی منظوری دے دی۔

یہ بھی پڑھیں

خصوصی عدالت کا کہنا ہے 17 دسمبر تک دلائل مکمل نہ ہوئے تو فیصلہ سنا دیں گے

خصوصی عدالت کا کہنا ہے 17 دسمبر تک دلائل مکمل نہ ہوئے تو فیصلہ سنا دیں گے

اسلام آباد: نئی پراسیکیوشن ٹیم کی طرف سے پیش ہونے والے وکلاء نے تیاری کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے