اگر والدین بچوں کو تحفظ نہیں دے سکتے تو عدالت دے گی

اسلام آباد میں ایک کمسن گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد کے واقع کے از خود نوٹس کی سپریم کورٹ میں جمعہ کو سماعت میں عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر والدین اپنے بچوں کو تحفظ نہیں دے سکتے تو عدالت ان کی محافظ بنے گی۔

سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ کے مطابق بنیادی انسانی حقوق کے تحت بچوں پر ہونے والے تشدد کو ان کے والدین بھی معاف نہیں کر سکتے۔

عدالت نے ڈی آئی جی اسلام آباد کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے جو کہ تین روز میں اپنی جامع رپورٹ پیش کرے گی۔ پولیس نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں تفتیش کے لیے کم از کم دو ہفتوں کی مہلت دی جاۓ لیکن عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی۔

عدالت نے متاثرہ بچی اور اس کے والدین کو عدالت میں پیش نہ کیے جانے پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ بچی، اس کے والدین اور تمام تفتیشی ریکارڈ عدالت میں 11 جنوری کو اگلی سماعت میں پیش کیا جاۓ۔

عدالت میں آج ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجہ خرم علی خان کی اہلیہ کو بھی پیش کیا گیا۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ اس معاملے کو بھی دیکھے گی کہ صلح نامہ یا راضی نامہ کس بنیاد پر ہوا کیونکہ تشدد کے ایسے واقعات میں صلح نامہ یا راضی نامہ اس لیے قابل قبول نہیں ہوتا کیونکہ ان واقعات میں دباؤ کا عنصر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت آج ہوگی

آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت آج ہوگی

اسلام آباد: ہائی کورٹ میں سابق صدر آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے