الیکشن کمیشن اراکین کے تقرر کیلئے نئے نام طلب

الیکشن کمیشن اراکین کے تقرر کیلئے نئے نام طلب

اسلام آباد: رواں برس جنوری میں ای سی پی کے رکنِ سندھ عبد الغفار سومرو اور رکنِ بلوچستان جسٹس(ر) شکیل بلوچ کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے خالی ہیں

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے ایک مشترکہ مراسلے میں وزیراعظم عمران خان اور قائد حزب اختلاف سے 3، 3 نام بھجوانے کا کہا۔
چنانچہ نام موصول ہونے کے بعد انہیں ای سی پی اراکین کی تعیناتی کے لیے پارلیمانی کمیٹی کو بھجوایا جائے گا۔
قوانین کے مطابق مذکورہ عہدوں پر 45 دن کے اندر تعیناتی ضروری ہے لیکن وزیراعظم اور شہباز شریف کے درمیان ابتدائی مشاورت کےآغاز کے بغیر یہ آئینی مدت گزر گئی تھی۔
بلا واسطہ مشاورت کے آغاز کے باجود اس وقت تنازع کھڑا ہوگیا جب ای سی پی اراکین کے مجوزہ ناموں کو مراسلہ وزیراعظم کے دفتر کے بجائے دفتر خارجہ سے جاری کیا گیا۔
وزیراعظم نے گزشتہ نام واپس لے کر سی سی پی کے دونوں عہدوں کے لیے 3، 3 نئے ناموں کی تجویز قائد حزب اختلاف کو بھجوادی۔
حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے مجموعی طور پر مجوزہ 12 نام ای سی پی اراکین کی تعیناتی کے لیے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کو بھجوادیے گئے تھےجہاں دونوں فریقین کی بھرپور کوشش یہ تھی کہ رکنِ سندھ ان کے مجوزہ ناموں میں سے چنا جائے جب کہ رکنِ بلوچستان کے لیے ایک دوسرے کو اپنی مرضی کا نام چننے کی پیشکش کی۔
کمیٹی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی جس کے بعد سب حیرت میں پڑ گئے کہ اب کیا ہوگا کیوں کہ اس قسم کے تعطل کی صورت میں آئین خاموش تھا۔
22 اگست کو صدر عارف علوی نے پاکستان تحریک انصاف حکومت کے تجویز کردہ ناموں میں سے اراکین الیکشن کمیشن تعینات کردیے۔
تنازع اس وقت مزید بڑھا جب اگلے ہی روز نو تعینات شدہ رکن سندھ خالد محمود صدیقی اور رکن بلوچستان منیر احمد کاکڑ اپنا عہدہ سنبھالنے کے لیے الیکشن کمیشن پہنچے تو چیف الیکشن کمنشر جسٹس (ر) سردار محمد رضا نے ان سے حلف لینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ یہ آئین کے منافی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے حلف لینے سے انکار کو وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے غیر آئینی قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ چیف الیکشن کمشنر کا یہ اختیار نہیں کہ حکومتی نوٹیفکیشن کی توثیق کریں۔
الیکشن کمشین کے دونوں اراکین کی تعیناتیوں کو پارلیمانی کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے اراکین کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

خصوصی عدالت کا کہنا ہے 17 دسمبر تک دلائل مکمل نہ ہوئے تو فیصلہ سنا دیں گے

خصوصی عدالت کا کہنا ہے 17 دسمبر تک دلائل مکمل نہ ہوئے تو فیصلہ سنا دیں گے

اسلام آباد: نئی پراسیکیوشن ٹیم کی طرف سے پیش ہونے والے وکلاء نے تیاری کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے