فیصلہ کیا جائے گا کہ گولی چلانے والے اس افسر پر فرد جرم عائد کی جائے یا نہیں

فیصلہ کیا جائے گا کہ گولی چلانے والے اس افسر پر فرد جرم عائد کی جائے یا نہیں

فلسطین: 22 سالہ فلسطینی کرم قاسمی نے ایسا اپنے فیس بک پیج پر لکھا، جس میں وہ 18 ماہ قبل اپنے ساتھ پیش آئے ایک واقعے کے بارے میں بتاتے ہیں

عوام کی نظر سے دور ایک انڈر پاس کی تاریک سڑک پر انھیں مبینہ طور پر اسرائیل بارڈر پولیس کی ایک خاتون افسر نے ربڑ کی گولی ماری۔
ان کی یہ کڑی آزمائش اس وقت منظر عام پر آئی جب اسرائیل کے ایک ٹی وی چینل نے اس حملے کی ویڈیو کلپ نشر کی اور اس کے بعد نومبر کے پہلے ہفتے میں یہ وائرل ہو گئی۔
لیکن قاسمی نےبتایا کہ جو ویڈیو میں ہم دیکھ رہے ہیں وہ ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا صرف ایک حصہ تھی۔
اس ویڈیو کو سب سے پہلے اسرائیل کے چینل 13 نیوز کے یشائی پورات نے پوسٹ کیا جس میں اسرائیلی بارڈر پولیس کے مسلح افسران کو قاسمی کو گولی مارتے ہوئے دیکھا گیا جو اس کے بعد ایک سرنگ میں چلے گئے۔ پھر بندوق چلنے کی زوردار آواز آئی اور وہ زمین پر گر گئے۔
کرم قاسمی کہتے ہیں ’میں فوجیوں کے لیے خطرہ نہیں تھا۔ میں نے اپنا شناختی کارڈ ان کے حوالے کر دیا۔‘
25 مئی 2018 کو قاسمی مغربی کنارے کے علاقے ہیبرون میں اپنے گھر سے یروشلم کے قریب ایک اجلاس میں کام کی تلاش کے لیے نکلے تھے۔ صرف ایک ماہ قبل ہی انھوں نے اکاؤنٹنسی میں گریجویشن کیا تھا۔
واپسی پر انھیں رکنے کے لیے کہا گیا اور ان کے ساتھ برا برتاؤ شروع ہو گیا۔
مجھے زبردستی ایک نامعلوم علاقے کی طرف لے جایا گیا جہاں مجھے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور تین گھنٹے سے زیادہ میرے سر، کمر اور تمام جسم پر بے دردی سے مار پیٹ کی گئی۔ وہ بتاتے ہیں کہ مجھے علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا اور پھر اچانک گولی مار دی۔
قاسمی نےبتایا کہ ان پریشان کن لمحوں میں حقیقتاً کیا ہوا، جب آخرکار انھیں جانے کی اجازت دی گئی اور وہ بازو اٹھا کر مسلح افسران سے دور جا رہے تھے۔
وہ کہتے ہیں ’میں گولی کا انتظار کر رہا تھا۔ میں چل رہا تھا اور انتظار کر رہا تھا کہ وہ (گولی) مجھے آ کر لگے۔‘
26 سیکنڈ کی اس ویڈیو سے ایسا لگتا ہے کہ انھیں زیادہ انتظار کرنا نہیں پڑا ہو گا۔ ہم ان کے درد سے چیخنے اور گولی چلنے کے فوری بعد زمین پر گرنے کی آواز سن سکتے ہیں۔
کرم قاسمی کا کہنا ہے کہ وہ گولی کے اثر کی وجہ سے چند منٹ کے لیے بے ہوش ہو گئے۔ یہ گولی دیکھنے میں کیپسول جیسی ہے جس کی گول نوک پر گہرے سیاہ رنگ کی ربڑ لگی ہوتا ہے۔ یہ گولی جان لیوا نہیں ہوتی مگر اگر قریب سے ماری جائے تو جسمانی اعضا کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
جب انھیں ہوش آیا تو انھوں نے مسلح افسران کو اپنے نزدیک چیختے چلاتے اور گولیاں چلاتے دیکھا۔
انھوں نے میری کوئی مدد نہیں کی۔ اپنی چوٹ کے ساتھ مجھے اناٹا(مشرقی یروشلم کے نزدیک قصبہ) تک پیدل پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگا اور پھر میں ہیبرون میں ایک ہسپتال گیا۔
لیکن قاسمی کا کہنا ہے کہ جس فائرنگ کے واقعے کو اب بڑے پیمانے پر دیکھا جا رہا ہے یہ اس تشدد کا صرف ایک حصہ تھا جسے انھوں نے اس دن برداشت کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ گولی مارنے سے قبل افسروں نے گھنٹوں انھیں بے رحمی سے مارا پیٹا۔
انھوں نے مجھے مارا اور ایسے گولی ماری جیسے وہ پب جی (ایک مشہور، پرتشدد ویڈیو گیم) کھیل رہے ہوں یا آسمان میں کبوتر یا کسی جانور کا شکار کر رہے ہوں۔ انھوں نے مجھ سے بالکل جانور جیسا سلوک کیا۔‘
وہ کہتے ہیں ’انھوں نے مجھے جتنا مارا ویڈیو میں اس کا صرف 10 فیصد دکھایا گیا ہے۔‘
انھوں نےیہ بھی بتایا کہ انھیں پوری طرح سے علم تھا کہ افسران مار پیٹ کی فلم بنا رہے تھے۔
وہ کہتے ہیں ’باقی کی فوٹیج افسران کے فون پر ہونی چاہیے۔‘
قاسمی مناسب علاج کروانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ انھیں گھر میں صحت یاب ہونے میں ایک ماہ سے زیادہ کا وقت لگا۔ ان کا کہنا ہے کہ مار پیٹ کی وجہ سے ان کے کندھے میں بار بار درد ہوتا ہے۔
اسرائیل کی وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں اور جلد ہی اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ گولی چلانے والے اس افسر پر فرد جرم عائد کی جائے یا نہیں۔
وزارت انصاف کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے ’ایک وقت میں متاثرہ شخص کو تلاش کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن بدقسمتی سے وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’حال ہی میں متاثرہ شخص کی شناخت ہو گئی ہے اور اس مرحلے پر تفتیش کار دستیاب شواہد اکٹھا کرنے کے لیے اس سے ملنے کا انتظام کر رہے ہیں۔‘
لیکن قاسمی کہتے ہیں کہ کسی نے بھی ان سے ان کی گواہی حاصل کرنے کے لیے بات نہیں کی ہے۔
’میرے بیان کو (تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر) حاصل کرنا ضروری ہے کیونکہ میں اس واقعے کا اہم عنصر ہوں۔ میں کہانی کا مرکز ہوں۔
اسرائیل کے ہاریٹز اخبار کے مطابق قاسمی کو گولی مار کرنے کے الزام میں زیرحراست ایک خاتون افسر کی ضمانت کی سماعت کے دوران جج نے ریمارکس دیے کہ ملزم نے ایک زخمی شخص کو ایسے گولی مار دی جیسے یہ کوئی ’ناقابل یقین تفریح ہو۔
ہاریٹز کے مطابق ملزم کے وکیل نے تردید کی ہے کہ گولی ان کے مؤکل نے چلائی اور نہ ہی لیک کی گئی کلپ سے یہ ظاہر ہوتا ہے ک گولی کس نے چلائی۔
چینل 13 نے یہ اطلاع بھی دی ہے کہ ایک مرد پولیس افسر نے اپنی گرل فرینڈ کو ٹیکسٹ میسج کے ذریعے اس واقعے کی شیخی بگھاڑی تھی۔
ایک طویل عرصے سے انسانی حقوق کے گروپ اسرائیل پر فلسطینیوں کے خلاف غیر متناسب طاقت کے استعمال کا الزام عائد کرتے آئے ہیں۔ اسرائیل میں انسانی حقوق کے ایک سرکردہ گروپ بی تسلم کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات کی وجہ استثنیٰ کا رواج ہے۔
رطانوی آن لائن جریدے دی انڈیپنڈنٹ کو بتایا ’اس غیر معمولی دستاویز سے اس افسوس ناک غیر یقینی واقعہ کا پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل کی سکیورٹی فورسز ایک فلسطینی کو بالکل بغیر کسی وجہ کے تکلیف پہنچا رہی ہیں۔‘
انھوں نے اپنے فیس بک پر لکھا ہے ’میری خواہش ہے کہ باقی دنیا کے لوگوں کی طرح تمام فلسطینی بھی امن، سلامتی اور آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

یہ بھی پڑھیں

فرانس میں پنشن سے متعلق نئے قانون کے خلاف آج پہیہ جام ہڑتال کی جا رہی ہے

فرانس میں پنشن سے متعلق نئے قانون کے خلاف آج پہیہ جام ہڑتال کی جا رہی ہے

فرانس: دارالحکومت پیرس میں 78 فی صد اسکول بند رہیں گے، ہڑتال کے باعث فرانس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے