حکومت کو صحت پر سیاست بند کردینی چاہیے

حکومت کو صحت پر سیاست بند کردینی چاہیے

کراچی : حکومت کو صحت پر سیاست بند کردینی چاہیے عدالتوں اور قانون کی طرف سے جو طبی سہولیات کی اجازت دی گئی ہے وہ تمام سیاسی قیدیوں کو دینی چاہیے

ملک کے 2سابق حکمران آصف علی زرداری اور نواز شریف صحت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، ان میں سے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف العزیزیہ ریفرنس میں طبی بنیادوں پر 8 ہفتوں کی ضمانت پر ہیں جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی سزا کو 8 ہفتوں کے لیے معطل کیا تھا کیونکہ ان کی صحت ناسازی کی وجہ سے وہ لاہور کے سروسز ہسپتال میں کئی روز تک زیر علاج رہے تھے۔
21 اکتوبر کو جب نواز شریف کی صحت اچانک خراب ہوئی تو انہیں فوری طور پر کوٹ لکھپت جیل سے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان کے پلیٹلیٹس انتہائی حد تک کم ہونے پر انہیں فوری طبی امداد دی گئی تھی۔
بعد ازاں انہیں سروسز ہسپتال سے جاتی امرا منتقل کردیا گیا تھا، جہاں گھر میں ان کے لیے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) قائم کیا گیا تھا۔
نواز شریف کے پلیٹلیٹس میں اچانک کمی کی اصل وجہ معلوم نہ ہونے کے باعث انہیں علاج کے لیے بیرون ملک جانے کا کہا گیا تھا، تاہم ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں موجود ہونے کے باعث وہ ابھی تک روانہ نہیں ہوسکے۔
سابق وزیراعظم کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ کافی ڈرامائی صورتحال اختیار کرگیا ہے، جہاں ایک طرف نیب نے گیند حکومت کے کورٹ میں ڈالتے ہوئے اس معاملے پر وفاقی حکومت کو مجاز اتھارٹی قرار دیا تھا تو وہی حکومت نے یہ معاملہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے حوالے کردیا تھا اور نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے پر سفارشات مرتب کرنے کا کہا گیا تھا۔
آصف علی زرداری کی بات کی جائے تو وہ بھی اس وقت بیمار ہیں اور زیر علاج ہیں جبکہ 12 نومبر کو ان کی علاج کے غرض سے کراچی منتقل کرنے کی درخواست کو عدالت نے مسترد کردیا تھا۔
آصف زرداری نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان کی صحت ‘تشویشناک’ ہے اور انہیں اپنی مرضی سے علاج کی اجازت دی جانی چاہیے جبکہ وہ کراچی میں اپنا علاج کروانا چاہتے ہیں۔
جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار آصف علی زرداری کو 22 اکتوبر کو اڈیالہ جیل سے پمز لایا گیا تھا، جہاں انہیں شعبہ امراض قلب کے وی آئی پی وارڈ میں منتقل کیا گیا تھا، ان کے متعدد ٹیسٹ کیے گئے تھے اور ان کی حالت خطرے سے باہر قرار دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے لیے ایف بی آر کا تاجروں کے ساتھ معاہدہ طے ہو گیا

سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے لیے ایف بی آر کا تاجروں کے ساتھ معاہدہ طے ہو گیا

کراچی: مجاز اتھارٹی کی منظوری سے کمیٹیاں سیلز ٹیکس رجسٹریشن کریں گی، جب کہ یہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے