ارب پتی افراد کی دولت گھٹنے لگی، انکشاف

ارب پتی افراد کی دولت گھٹنے لگی، انکشاف

دنیا کی امیر ترین شخصیات اور ارب پتی افراد کے نام، ہر سال ان کے اثاثوں کی مالیت، ان کے کاروبار اور مختلف اداروں کے بارے میں معلومات عالمی زرایع ابلاغ میں نمایاں جگہ پاتی ہے۔

 فہرست ہر خاص و عام کو متوجہ کرتی ہے اور ایسی رپورٹیں سب کی دل چسپی کا باعث ہوتی ہیں۔ تاہم ایک حالیہ رپورٹ نے نہ صرف عام لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہے بلکہ ارب پتی افراد اور مختلف کاروباری شخصیات کے لیے پریشان کُن بھی ہے۔

جرمن میڈیا نے مختلف نیوز ایجنیسوں کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ برس دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی دولت میں مجموعی طور پر کمی ہوئی ہے جس کا سبب امريکا اور چين کے مابین کشيدگی، غیر یقینی سیاسی صورت حال اور بازار حصص ميں بے قاعدگياں بنیں۔

چین کے بعد امریکی ارب پتی اس سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ پچھلے ايک سال ميں دنيا کے امير ترین افراد کی مجموعی دولت ميں کمی کا انکشاف ‘‘يو بی ايس’’ اور ‘‘پی ڈبليو سی’’ نامی اداروں نے اپنی مشترکہ رپورٹ ميں کيا ہے۔

ارب پتی افراد کی مجموعی دولت ميں ايک سال ميں 388 بلين ڈالر کی کمی نوٹ کی گئی اور ان کی ملکیت میں مجموعی رقوم 8,539 بلين ڈالر بنتی ہيں۔ اس حوالے سے رپورٹ کے مطابق مختلف خطوں کے لحاظ سے سب سے زيادہ کمی چين کے ارب پتی افراد کی دولت ميں نوٹ کی گئی ہے۔

دوسرے نمبر پر امريکی ارب پتيوں کی دولت ميں اور تيسرے نمبر پر ايشيا پيسيفک خطے ميں بسنے والے ارب پتی افراد کی مجموعی دولت ميں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

اس رپورٹ ميں يو بی ايس کے سربراہ جوزف اسٹيڈلر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ 2008 کے بعد يہ پہلا موقع ہے جب جيو پاليٹکس کے سبب ارب پتی افراد کی دولت ميں کمی واقع ہوئی ہے۔

چين سب سے زيادہ متاثرہ ملک ثابت ہوا۔ ڈالر کی قدر کے حوالے سے ديکھا جائے تو چين کے امير ترين افراد کی مجموعی دولت ميں 12.8 فی صد کمی ہوئی۔ اس کے باوجود جوزف اسٹيڈلر کا کہنا ہے کہ چين ميں ہر دو سے ڈھائی دن ميں ايک نيا شخص ارب پتی افراد کی فہرست ميں شامل ہوجاتا ہے۔

سمندری طوفان ’بلبل‘ نے بھارت اور بنگلادیش میں تباہی مچادی، 8 افراد ہلاک

یہ بھی پڑھیں

ترک صدر کے اقدامات ترکی کےلیے تکلیف دہ نتائج کا باعث بن سکتے ہیں

ترک صدر کے اقدامات ترکی کےلیے تکلیف دہ نتائج کا باعث بن سکتے ہیں

واشنگٹن: مسٹر رچ نے ایک بیان میں کہا کہ صدر اردوآن کے فیصلے اور اقدامات …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے