پولیو وائرس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے والے 7 کیسز کی تشخیص

پولیو وائرس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے والے 7 کیسز کی تشخیص

اسلام آباد: متعلقہ حکام کچھ عرصے تک یہ قبول کرنے سے انکاری تھے ملک میں پولیو وائرس ٹائپ ٹو کا کوئی کیس ملک میں موجود ہے

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ ‘ یہ وائلڈ پولیو وائرس نہیں ہے، یہ سیبن-لائیک ٹائپ ٹو ڈیرائیوڈ (ایس ایل ٹی 2 ڈی ) کی وبا ہے’
حال ہی فلپائن، چین ، انڈونیشیا، نائیجیریا، جمہوریہ کانگو اور افریقہ کے کئی ممالک میں پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جنہوں نے پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ کردیا تھا۔
وائلڈ پولیو وائرس کی 3 قسمیں ہیں ٹائپ 1، ٹائپ2 اور ٹائپ 3 جن میں تینوں کے کیپسڈ پروٹین میں معمولی سا فرق ہے۔
پاکستان میں ٹائپ 1 اور ٹائپ ٹو وائرس کی اورل پولیو ویکسینز (او پی ویز) دی جاتی ہیں لیکن 2014 میں ٹائپ 2 ویکسین کا استعمال روک دیا گیا تھا یہاں تک 2016 سے ماحولیاتی نمونوں میں بھی یہ وائرس نہیں مل سکا تھا۔
سیوریج کے پانی میں وائرس موجود ہو تو ماحولیاتی نمونے کو مثبت قرار دیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ‘ تاہم اچانک سے مختلف علاقوں سے ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ کسی لیبارٹری یا کسی اور جگہ اس کی کچھ مقدار رہ گئی اور جو اب انسانی غلطی کی وجہ سے پھیل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ وائلڈ پولیو وائرس کی تعداد میں شمار نہ کیے جانے والے کیسز کو ہم نے سینٹرز فار ڈسیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) اٹلانٹا کی لیبارٹری میں نمونے بھیجے تھے اور ٹائپ 2 پولیو وائرس کے نتیجے میں بچوں کی معذوری کی تصدیق کے بعد ہم نے پولیو مہم شروع کردی ہے’۔

یہ بھی پڑھیں

ملکی معیشت اس وقت مستحکم ہے

ملکی معیشت اس وقت مستحکم ہے

اسلام آباد: مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ملکی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے