محبت ہی میں امتِ مسلمہ کی قوت کا راز پنہاں ہے

محبت ہی میں امتِ مسلمہ کی قوت کا راز پنہاں ہے

مسلمانوں کی حُبِّ رسول ؐکی خبر نہ ہو، وہ اسلام کی قوت کا احساس کرہی نہیں سکتا۔۔۔یہ جذبہء حُب ایسا شدید ہے کہ اسے تصوف کی گرمیء نفس کے مماثل کہہ سکتے ہیں

ذاتِ رسول ؐسے محبت مسلمانوں کی وحدت اور اتحاد کا ایک بڑا موجب ہے
حضور اکرم ﷺ کی ذات والا صفات سے اقبال کا عشق جدید و قدیم فکری زاویوں سے روشناس لوگوں میں سب سے زیادہ نمایاں ہے اور مبنی بر اخلاص بھی۔شدتِ حُبِّ رسول ﷺ کا اظہار ان کے متعدد اشعار میں جا بجا ملتا ہے۔مثلاً

تب و تابِ بتکدہء عجم نرسد بسوز وگدازِ من
کہ بیک نگاہِ محمدِ عربی ،گرفت حجازِ من

غیر عرب دنیا کی چمک دمک میرے قلبی سوزوگداز تک نہیں پہنچتی کیوں کہ میرے حجاز یعنی دل کو میرے آقا جنابِ محمد رسول اللہ (ﷺ) نے ایک ہی نگاہ میں اپنا کرلیا ہے۔ (اب مجھے آپﷺ کی تعلیمات کے سوا سب ہیچ نظر آتا ہے
با خدا در پردہ گویم با تو گویم آشکار
یا رسولؐ اللہ ! او پنہاں و تو پیدائے من
یا رسول ؐاللہ! میں تو اللہ سے بھی آپﷺ کے توسط سے بات کرتا ہوں اس لیے کہ وہ میری آنکھ سے پوشیدہ ہے اور آپ ﷺ میرے سامنے ظاہر ہیں‘
میرا عقیدہ ہے کہ نبیء کریمؐ زندہ ہیں اور اس زمانے کے لوگ بھی ان کی صحبت سے اسی طرح مستفیض ہوسکتے ہیں جس طرح صحابہؓ ہوا کرتے تھے۔ لیکن اس زمانے میں تو اس قسم کے عقائد کا اظہار بھی اکثر دماغوں کو ناگوار ہوگا۔اس واسطے خاموش رہتا ہوں
یہی وجہ ہے کہ اقبال کہتے ہیں کہ اللہ کے وجود کا انکار ممکن ہے لیکن رسول ﷺ کی ذات کا انکار ممکن نہیں ہے۔

اقبال پوری قوم کو حب رسول ﷺ اور اتباع رسول کی دعوت دیتے ہیں۔ اقبال کے شعری سرمائے میں جہاں جہاں حضور نبیء کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا ذکر مبارک آیا ہے اس میں عمومیت سے زیادہ محرکات عشق کا اختصاصی پہلو جھلکتا ہے۔ اقبال کی فکری دنیا میں جتنے نکات منصبِ رسالت کی تفہیم کے ضمن میں منصہء شہود پر آئے وہ شاید ہی کسی اور شاعر یا مسلمان مفکر کی تحریروں میں آئے ہوں۔مثلاً اپنی کتاب جاوید نامہ میں وہ حضرت شیخ جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ سے رسالت کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور پھر ان کے جوابات مثنوی کے اشعار میں موتیوں کی طرح پروتے ہیں:

گفت اقوام و ملل آیات اوست

عصر ہائے ماز مخلوقات اوست

از دم او ناطق آمد سنگ و خشت

ما ہمہ مانند حاصل او چو کشت

پاک سازد استخوان و ریشہ را

بالِ جبریلے دہد اندیشہ را

آفتابش را‘ زوالے نیست نیست

منکرِ او را کمالے نیست نیست

ترجمہ:(میں نے رومی سے درخواست کی کہ مجھے پیغمبری کے بارے میں آگاہ فرمایئے ) تو انہوں نے فرمایا !قومیں اور ملتیں پیغمبری کی ہی نشانیاں ہیں۔یعنی پیغمبر اپنی تعلیمات کے ذریعے ایک پیغام رساں قوم تیار کرتا ہے۔ ہمارے زمانے بھی پیغمبر کے دیئے ہوئے پیغام کی پیداوارہیں[کیوں کہ] پیغمبر ،زمانے کو اپنی تعلیمات کے مطابق ڈھالتا ہے۔پیغمبر کے دم سے اینٹ ،پتھر بھی گویائی حاصل کرلیتے ہیں۔ پیغمبر کی حیثیت کھیت کی سی ہے اور ہم سب اس کا حاصل ہیں۔ پیغمبر ،ہڈیوں اور ریشوں کو پاک کرکے ، فکرِانسانی کو شہپرِ جبریل کی قوت عطا کردیتاہے۔اس(پیغمبر) کی تعلیمات کے سورج کو زوال نہیں، [ہرگز] نہیں ہے۔ اس کی تعلیمات سے منہ موڑنے والے کو کبھی کمال حاصل نہیں ہوسکتا، ہرگز نہیں ہوسکتا
پیامِ مشرق میں بھی اقبال نے حضورِ اکرم ﷺ کی ذات کے فیضان سے آشنا کرنے کے لیے واشگاف الفاظ میں کہا:

امتے بود کہ ما از اثرِ حکمتِ او

واقف از سِرِّ نہاں خانہء تقدیر شدیم
ہم مسلمان ایک امت تھے جو حضورِ اکرم ﷺ کی حکمت آمیز تعلیمات کے نتیجے میں رازِ تقدیر سے آشنا ہوکر عمل کی وادیوں کو سر کرنے لگے تھے‘‘۔

مقامِ رسالت، عظمتِ رسول ﷺ اور حُبِّ رسول ﷺ کے تقاضوں سے آشنا ہوکر ہی اقبال نے اپنی شاعری میں ’’رسالت‘‘ کے حوالے سے بڑے فکر انگیز نکات پیش کیے ہیں۔ مثلاً رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی معراج کا پیغام اور معراج کا منشاء جتنے بھرپور انداز میں اقبال کے در ج ذیل شعر میں جلوہ آراہوا ہے وہ اسلامی ادب میں نایاب چیز ہے
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی ؐ سے مجھے

کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں

یا مقام رسالت مآب کے اظہار کی یہ کوشش

وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے

غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیء سینا

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر

وہی قرآں ، وہی فرقاں، وہی یسٓ وہی طٰہٰ

اقبال زندگی بھر بھٹکے ہوئے راہی کو سوئے حرم لیجانے کی آرزو کرتے رہے۔ درج ذیل قطعہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے:

بمنزل کوش مانند مہ نو

دریں نیلی فضا ہر دم فزوں شو

مقامِ خویش اگر خواہی دریں دہر

بحق دل بند و راہِ مصطفیٰؐ رو

اے مسلمان تو منزل کی طرف اسی طرح بڑھتا رہ جس طرح نیا چاند اپنی تکمیل کے منازل بلا رکاوٹ طے کرتا رہتا ہے۔ تو بھی چاند کی طرح اس نیلی فضا میں ہر لمحہ بڑھتا رہ۔اگر تو اس زمانے میں اپنا کوئی مقام چاہتا ہے تواپنے دل کا تعلق حق سے جوڑ کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے راستے پر چل پڑ‘‘۔

مسلمانوں کو نبیء کریم ﷺ کی اتباع کی ترغیب دیتے ہیں تو زور پیدا کرنے کے لیے انہیں تنبیہ بھی کرتے ہیں کہ اگر یہ راہ اختیار کرنا تمہارے بس میں نہیں تو دین کے راستے سے ہٹ جاؤ اور کافر ہو کر مرجاؤ

کشودم پردہ را از روئے تقدیر

مشو نومید و راہِ مصطفی ؐ گیر

اگر باور نہ داری آنچہ گفتم

زدیں بگریز و مرگِ کافرے میر

ترجمہ: میں نے تقدیر کے چہرے سے پردہ اٹھا دیا ہے(تقدیر عمل میں پوشیدہ ہے۔۔۔اے مسلمان! تو زوال و ادبار کے تسلسل سے) ما یوس نہ ہو، بس حضور اکرم ﷺ کے راستے اور ان کی لائی ہوئی شریعت پر چلنا شروع کردے۔لیکن اگر تجھے میری بات (پُرخلوص نصیحت ) پر یقین نہیں ہے، تو دین کی راہ سے ہٹ جااور کافر کی موت مر‘‘۔

ایک اور مقام پرحضور رسالت مآب ﷺ کی محبت کے عملی تقاضوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں

محبت از نگاہش پائدار است

سلوکش عشق و مستی را عیار است

مقامش عبدہٗ آمد و لیکن

جہانِ عشق را پروردگار است

حضور اکرم ﷺ کی نگاہِ کرم ہوجائے (تیری محبت ان ﷺکے دربار میں قبول ہوجائے ) تو تیری محبت پائدار (تسلیم کی جا سکتی )ہے۔ ان ﷺ سے عشق کرنے کا معیار یہ ہے کہ انہی ﷺ کا راستہ عملی زندگی میں اپنایا جائے۔ ان کا مقام ’’عبدہٗ‘‘ (اس [اللہ ]کا بندہ) بتایا گیا ہے لیکن وہ بندہ عشق کے جہان کا پروردگار ہے۔جہانِ عشق آپ ﷺ ہی کی وجہ سے زندہ ہے‘‘۔

مردِ مومن در نسا زد با صفات

مصطفیٰؐ راضی نشد الاَّ بذات

تاز مازاغ البصر، گیرد نصیب

بر مقامِ عبدہٗ گردد رقیب

مردِ مومن صفات کے مشاہدے پر قناعت نہیں کرتا۔کیوں کہ رہبرِ اعظم حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے بھی ذات کے دیدار کے علاوہ کسی نعمت کو نہیں چاہا تھا‘
یہاں تک کہ حضورِ اکرم ﷺ نے وہ مقام حاصل کرلیا جسے اللہ نے ’ما زاغ البصر و ما طغیٰ ‘ (نہ تو آپﷺ کی نگاہ میں کجی پیدا ہوئی اور نہ حد سے بڑھی) کہا ہے اور پھر مقامِ عبدہ ٗ بھی حاصل کرلیا۔ [بندہء مومن آپﷺ کی پیروی میں کامل ہوکر ذاتِ واجب الوجود کے دیدارکی منزل تک پہنچ سکتا ہے

یہ بھی پڑھیں

مضر صحت گوشت کھلانے والوں کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی

مضر صحت گوشت کھلانے والوں کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی

کراچی: مضر صحت گوشت کھلانے والوں کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی ، کراچی میٹرو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے