حلب کے مہاجرین کیمپوں میں بے بسی کی زندگی گزارنے پرمجبور

حلب سے ہجرت کرکے ادلب کے پناہ گزینوں کیمپوں میں زندگی گزارنے والے مہاجرین کی زندگی سردموسم اور ناکافی سہولیات نے مزید مشکل بنا دی ہے۔

جان کے خوف سے اپنے گھر بار چھوڑ کر دربدر بھٹکتے شام کے مہاجرین بے بسی کی تصویر بن گئے، حلب سے ہجرت کرکے ادلب کے پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزارنے والوں میں بڑی تعداد بچوں کی بھی ہے، جو ناکافی سہولتوں کے ساتھ سرد موسم کی شدت کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔

شامی فورسز اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں اور بمباری سے جان بچا کر ہجرت کرنے والے مہاجرین کے مسائل میں بارش اور شدید سردی کی وجہ سے مزید اضافہ ہوگیا۔

مختلف اداروں کی جانب سے امدادی کارروائیاں کی جارہی ہیں لیکن مہاجرین کی بڑی تعداد کو موسم کی سختیوں سے بچانے اور بچوں کو تعلیم اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کے لئے وسیع پیمانے پر عالمی اداروں کی مدد کی طلب گار ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق پچھلے 5 سال سے جاری شامی خانہ جنگی اب تک 4 لاکھ افراد کی جانیں لے چکی ہے۔

شام اور عراق کے جنگ زدہ علاقوں سے ہجرت کرنے والے افراد کی تعداد تاریخ میں مہاجرین کی سب سے بڑی تعداد ہے اور دنیا نے اس سے قبل کبھی اتنی زیادہ تعداد میں مہاجرین کی میزبانی نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات ناکام

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات ناکام

چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے تجارتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے