پاکستان کو انٹرنیٹ کے لحاظ سے آزاد نہیں

پاکستان انٹرنیٹ کے لحاظ سے آزاد نہیں

کراچی: فریڈم ہاؤس نے فریڈم آن دی نیٹ سے متعلق سالانہ رپورٹ 2019 ‘ کرائسس آف سوشل میڈیا’ میں پاکستان کو انٹرنیٹ کے لحاظ سے ‘ آزاد نہیں ‘ملک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ہرسال پاکستان کی درجہ بندی میں مسلسل تنزلی دیکھنے میں آرہی ہے

فریڈم ہاؤس نے اپنی رپورٹ میں جون 2018 سے مئی 2019 کے عرصے کا جائزہ لیا اور یہ بات سامنے آئی کہ اس عرصے میں عالمی سطح پر انٹرنیٹ آزادی میں کمی آئی۔
دنیا بھر کی حکومتیں سوشل میڈیا کو الیکشنز پر اثر انداز ہونے اور شہریوں کی نگرانی کے لیے زیادہ استعمال کررہی ہے، رپورٹ میں اس رجحان کو ٹیکنالوجی کی ڈیجیٹل آمریت کا رجحان قرار دیا۔
اس میں پاکستان کو انٹرنیٹ آزادی سے متعلق 100 (بدترین ممالک) میں سے 26 ویں نمبر پر ہے، پاکستان کی رینکنگ میں گزشتہ برس کے مقابلے میں ایک درجہ تنزلی آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان رسائی میں رکاوٹ میں 25 سے 5ویں نمبر ، مواد پر حدود پر 35 میں 14ویں اور صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی پر 40 میں سے 7ویں نمبر پر رہا۔
پاکستان انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کی آزادی سے متعلق دنیا کے بدترین ممالک میں شامل ہے جبکہ خطے کے لحاظ سے ویتنام اور چین کے بعد پاکستان تیسرا بدترین ملک ہے۔
پاکستان کے حوالے سے تیار کی گئی رپورٹ ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن نے تحریر کی تھی، ڈی آر ایف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگہت داد نے کہا کہ ‘ رواں برس کی درجہ بندی حکومتوں کی جانب سے قلیل مدتی اور رجعت پسندانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے’۔
انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے میں رکاوٹ بننے والے اداروں میں سالوں سے جاری قانون سازی اور سرمایہ کاری کے نتیجے میں ایک ایسا ماحول پیدا ہوگیا ہے جہاں پاکستان میں انٹرنیٹ زیادہ غیر محفوظ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

مضر صحت گوشت کھلانے والوں کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی

مضر صحت گوشت کھلانے والوں کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی

کراچی: مضر صحت گوشت کھلانے والوں کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی ، کراچی میٹرو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے