ثاقب نثار نے چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ کے سربراہ کے عہدے چیف جسٹس آف پاکستان کے لیے جسٹس میاں ثاقب نثار نے حلف اٹھا لیا ہے۔

جسٹس میاں ثاقب نثار پاکستان کے 25ویں چیف جسٹس ہیں۔ صدر ممنون حسین نے سنیچر کی صبح اسلام آباد میں ایک تقریب میں ان سے حلف لیا۔ اس تقریب میں وزیراعظم نواز شریف، کابینہ کے ارکان، سپریم کورٹ کے ججوں اور مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کی۔

جسٹس میاں ثاقب نثار کون ہیں؟

جسٹس میاں ثاقب نثار نے پنجاب یونیورسٹی لا کالج سے ایل ایل بی کیا جس کے بعد انھوں نے وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔

وہ سنہ 1982 میں ہائی کورٹ کے وکیل بنے جس کے بعد انھیں سنہ 1994 میں سپریم کورٹ میں وکالت کرنے کا لائسنس مل گیا۔

جسٹس میاں ثاقب نثار، وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں سیکریٹری قانون بھی رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انھیں سنہ 1998 میں میاں نوازشریف کے دور میں ہی لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیاگیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے آخری دور میں اس وقت کی حکومت انھیں لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنا چاہتی تھی تاہم اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے رات کو عدالت لگا کر حکم جاری کیا کہ چیف جسٹس کی مشاورت کے بغیر کوئی اقدام نہ اٹھایا جائے۔

اس حکم کے بعد جسٹس میاں ثاقب نثار کو فروری سنہ 2010 میں سپریم کورٹ کا جج تعینات کر دیا گیا جب کہ اس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف کی مدت ملازمت کو توسیع کردی گئی۔

جسٹس میاں ثاقب نثار دو سال سے زائد عرصے تک پاکستان کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائض رہیں گے۔

جسٹس میاں ثاقب نثار اعلیٰ عدلیہ کے ان ججوں میں شامل ہیں جنھوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی جانب سے سنہ 2007 میں لگائی گئی ایمر جنسی کے بعد عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اُٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔

میاں ثاقب نثار کی چیف جسٹس کے عہدے پر تعیناتی کے بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

انتخابات, میں , کام یابی پر, نریندر مودی کو مبارک باد

انتخابات میں کام یابی پر نریندر مودی کو مبارک باد

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مودی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے