غفلت برتنے پر گریڈ 17 اور 18 سے تعلق رکھنے والے 6 ملازمین جو معطل

غفلت برتنے پر گریڈ 17 اور 18 سے تعلق رکھنے والے 6 ملازمین جو معطل

لاہور: ریلوے حکام نے اس بات کا فیصلہ فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلوے (ایف جی آئی آر) کی ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں کیا جس کی رپورٹ ہفتے کی رات فیڈرل سیکریٹری یا چیئرمین کو پیش کی گئی تھی

ایف جی آئی آر سانحے کی وجوہات کے حوالے سے اپنی تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ آئندہ 2 ہفتوں میں پیش کرے گی۔
پی آر ایڈمن نےگریڈ 20 ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ ملتان کو کے کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا اور ان کے تبادلے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں تاہم ایک عہدیدار نے بتایا کہ ان کی برطرفی کا معاملہ بھی تیزگام ایکسپریس آتشزدگی سے منسلک ہے۔
ایف جی آئی آر کی رپورٹ کی روشنی میں ریلوے حکام نے جن افسران کو معطل کیا ان میں ریلوے کراچی ڈویژن کے کمرشل آفیسر جنید اسلم، اسسٹنٹ کمرشل آفیسرز (اے سی اوز) عابد قمر شیخ اور راشد علی، کراچی اور سکھر ڈویژن کے ریلوے پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس پولیس (ڈی ایس پیز) دلاور میمن اور حبیب اللہ خٹک شامل ہیں۔
ریلوے عہدیدار کے مطابق علاوہ ازیں عامر محمد داؤد پوتا کو ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ (ملتان) کے عہدے سے ہٹایا گیا اور انہیں وزارت ریلوے کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ ان کی جگہ شعیب عادل (چیف ٹریفک منیجر،م ڈرائی پورٹ، پی آر ہیڈ کوارٹر) کو ملتان کا ڈی ایس تعینات کردیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ موجودہ وزیر ریلوے شیخ رشید کی وزارت میں پہلا موقع ہے کہ ریلوے حکام نے غفلت برتنے پر اعلیٰ افسران کے خلاف سخت ایکشن لیا جو سانحہ کا سبب بنی اور 74 مسافر جاں بحق ہونے کے ساتھ متعدد زخمی ہوئے جبکہ سرکاری و نجی املاک کو بھی لاکھوں روپے کا نقصان پہنچا۔
ماضی میں پی آر مجیجمنٹ نچلے گریڈ کے ملازمین مثلاً ڈرائیورز، معاون ڈرائیورز، گارڈ وغیرہ کو قصور وار ٹھہراتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات برآمدگی کیس کی سماعت

رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات برآمدگی کیس کی سماعت

لاہور: انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج شاکر حسن نے مسلم لیگ نواز پنجاب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے