اسرائیل سے متعلق امریکی بیان پر برطانیہ کی نکتہ چینی

برطانیہ نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے اس بیان پر نکتہ چینی کی ہے جس میں انھوں نے نتن یاہو کی حکومت کو ‘اسرائیل کی تاریخ کی انتہائی سخت گیر دائیں بازو’ کی حکومت قرار دیا تھا۔

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کے ترجمان نے کہا کہ جمہوری طور پرمنتخب سیاسی جماعتوں کے کسی بھی حکومتی اتحاد کو نشانہ بنانا مناسب نہیں تھا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ اسرائیل کی پالیسیاں اس کے حکمراں اتحاد میں شامل انتہائی دائیں بازو کے عناصر مرتب کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کی ان ہی پالیسیوں سے اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کا دو ریاستی حل شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری نے سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف منظور کی جانے والی حالیہ قرار داد پر ہونے والی رائے شماری میں امریکی عدم شرکت کا دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ قدم امریکی اقدار کے عین مطابق تھا۔

اس قرارداد میں مقبوضہ علاقوں میں نئی بستیاں بسانے کے اسرائیل کے فیصلے پر سخت نکتہ چینی کی گئی ہے۔

سکیورٹی کاؤنسل میں پیش کی جانے والی قرارداد کی حمایت برطانیہ نے بھی کی تھی اور اس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے جان کیری کے اس بیان سے اتفاق کیا کہ ‘مشرق وسطی میں دیر پا امن دو

ریاستی حل سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ترجمان نے کہا کہ بسیتاں بسانا ہی اس تنازع کا سب سے بڑا مسئلہ نہیں ہے۔‘

ترجمان نے کہا: ‘اسی لیے ہم اس بات کو نہیں مانتے ہیں کہ امن کے لیے مذاکرات میں صرف ایک مسئلے پر توجہ دی جانے چاہیے، جو اس معاملے میں نئی یہودیوں بستیوں کی تعمیر ہے، جبکہ ہمیں واضح طور پر معلوم ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازع کس قدر گہرا اور پیچیدہ ہے۔’

ان کا مزید کہنا تھا: ‘ہم اس بات پر بھی یقین نہیں رکھتے کہ کسی بھی جمہوری طور پر منتخب حکومت کے کسی اتحادی کو نشانہ بنایا جائے۔’

گذشتہ جمعے کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل میں ووٹ کے بعد سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اس وقت سفارتی تنا‏زع شروع ہوا جب اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے الزام عائد کیا کہ اس قرارداد کی تیاری اور اسے پیش کرنے میں خود امریکہ ملوث تھا۔

برطانوی اخبارات کے مطابق اس قرار داد کی تیاری میں برطانیہ نے بھی بڑا اہم کردار ادا کیا تھا اور اس قرار داد کے حق میں ووٹ بھی دیا تھا۔

بدھ کے روز جان کیری نے کہا تھا کہ دو ریاستی حل کے لیے، اور ایک آزاد فلسطین ریاست کی تشکیل کے لیے، نتن یاہو کی عوامی سطح پر حمایت تو سامنے آتی ہے لیکن ان کی حکومت میں موجود سختگیر موقف رکھنے والے ارکان کے خیالات اس سے مختلف ہیں۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ ‘ان کی موجودہ مخلوط حکومت اسرائیل کی تاریخ کی انتہائی سخت گیر دائیں بازو کی حکومت ہے جو انتہائی سخت موقف کے حامیوں کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔’

اسرائیل کے وزیراعظم نے امریکی انتظامیہ کے موقف پر یہ کہہ کر سخت نکتہ چینی کی تھی کہ ‘پورے ایک گھنٹے تک امریکی وزیرِ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود واحد جموری ریاست پر حملہ کیا۔’

برطانوی وزيراعظم ٹریزا مے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘برطانیہ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیرات کو غیر قانونی سمجھتا ہے اسی لیے گذشتہ ہفتے ہم نے سکیورٹی کاؤنسل میں قرارداد کی حمایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات ناکام

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات ناکام

چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے تجارتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے